اسلام آباد:

وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2024-25 کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا سالانہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا ہے، رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 3.6 فیصد کے مقررہ ہدف کے بجائے 2.68 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے لیے عبوری جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق سیکریٹری منصوبہ بندی کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.

6 فیصد مقرر کیا تھا تاہم شرح نمو ہدف سے کم 2.68 فیصد رہے گی۔

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال فی کس آمدنی 1840 ڈالر رہی اور موجودہ مالی سال معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر رہا ہے۔

رواں مالی سال 2024-25 کے دوران زراعت، جنگلات اور فشریز میں 0.56 فیصد کا اضافہ ہوا۔ صنعتی نمو میں 4.77 فیصد اور خدمات میں 2.91 فیصد گروتھ رہی ہے۔ بجلی، گیس اور پانی کی گروتھ  28.88 فیصد رہی جبکہ چھوٹی صنعتوں کی پیداوار میں 8.81 فیصد اضافہ ہوا۔

تعمیرات کے شعبے میں 6.61 فیصد گروتھ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ اس عرصے کے دوران فصلوں کی پیداوار میں 6.82 فیصد کی کمی ہوئی، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.53 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان جی ڈی پی گروتھ رواں مالی سال

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا