UrduPoint:
2026-07-24@06:34:35 GMT

گندم کی پیداوار میں 30 لاکھ ٹن کمی ہو جانے کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

گندم کی پیداوار میں 30 لاکھ ٹن کمی ہو جانے کا انکشاف

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی 2025ء ) گندم کی پیداوار میں 30 لاکھ ٹن کمی ہو جانے کا انکشاف ، حکومتی پالیسیوں سے نالاں کسانوں کی جانب سے گندم کی کاشت میں کمی کے باعث گندم کی پیداوار بھی کم ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال اختتام کے قریب ہے تاہم حکومت معاشی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کر سکی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال کے دوران فصلوں کی پیداوار خاص کر گندم کی پیداوار میں بڑی کمی ہوئی ہے۔

انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک کی بڑی فصلوں کی پیداوار 13.

4 فیصد کمی ہوئی۔ ان میں گندم کی فصل کی پیداوار 8.9 فیصد کم ہوئی۔ گندم کی پیداوار 29 لاکھ ٹن کم ہوئی اور 31.8 ملین ٹن سے کم ہو کر 28.9 ملین ٹن پر آ گئی۔ اس کے علاوہ مکئی کی پیداوار میں 15.4 فیصد، چاول کی فصل میں 1.38 فیصد کمی ہوئی۔

(جاری ہے)

چاول کی پیداوار 9.86 ملین ٹن سے کم ہو کر 9.72 ملین ٹن رہی۔

بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 3.6 مقرر کیا گیا لیکن زرعی شعبے کی مایوس کن کارکردگی کے باعث معاشی ترقی کی شرح 2.68 فیصد رہی۔ بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران رواں مالی سال میں معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر تک جا پہنچا جبکہ فی کس آمدنی 1824 ڈالرز ہو گئی۔ رواں مالی سال زرعی شعبے کی شرح نمو 0.56 فیصد، صنعت اور معدنیات کے شعبے میں شرح نمو 4.7 فیصد ہوئی۔

جنگلات اور فشریز میں 0.56 فیصد کا اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال خدمات میں 2.91 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.53 فیصد کمی ہوئی اور چھوٹی صنعتوں کی پیداوار میں 8.81 فیصد اضافہ ہوا۔ تعمیرات کی شعبے میں 6.61 فیصد اور بجلی گیس پانی کی گروتھ 28.88 فیصد رہی۔ واضح رہے کہ حکومت گزشتہ دو سالوں کے دوران بھی معاشی ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ برس وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت مقرر نہیں کی گئی تھی جس کے باعث کسانوں کو بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ گزشتہ برس ہی کسانوں کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کا بھاری نقصان ہوا، اس لیے آئندہ سال گندم کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ جبکہ رواں سال بھی حکومت نے گزشتہ برس کی پالیسی کو برقرار رکھا، جس باعث رواں سال بھی کسانوں کو مزید بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ اسی باعث آئندہ سال بھی گندم کی پیداوار میں مزید کمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گندم کی پیداوار میں رواں مالی سال کمی ہوئی کہ رواں فیصد کم ملین ٹن کمی ہو

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن