گندم کی پیداوار میں 30 لاکھ ٹن کمی ہو جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی 2025ء ) گندم کی پیداوار میں 30 لاکھ ٹن کمی ہو جانے کا انکشاف ، حکومتی پالیسیوں سے نالاں کسانوں کی جانب سے گندم کی کاشت میں کمی کے باعث گندم کی پیداوار بھی کم ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال اختتام کے قریب ہے تاہم حکومت معاشی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کر سکی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال کے دوران فصلوں کی پیداوار خاص کر گندم کی پیداوار میں بڑی کمی ہوئی ہے۔
انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک کی بڑی فصلوں کی پیداوار 13.4 فیصد کمی ہوئی۔ ان میں گندم کی فصل کی پیداوار 8.9 فیصد کم ہوئی۔ گندم کی پیداوار 29 لاکھ ٹن کم ہوئی اور 31.8 ملین ٹن سے کم ہو کر 28.9 ملین ٹن پر آ گئی۔ اس کے علاوہ مکئی کی پیداوار میں 15.4 فیصد، چاول کی فصل میں 1.38 فیصد کمی ہوئی۔
(جاری ہے)
چاول کی پیداوار 9.86 ملین ٹن سے کم ہو کر 9.72 ملین ٹن رہی۔
بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 3.6 مقرر کیا گیا لیکن زرعی شعبے کی مایوس کن کارکردگی کے باعث معاشی ترقی کی شرح 2.68 فیصد رہی۔ بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران رواں مالی سال میں معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر تک جا پہنچا جبکہ فی کس آمدنی 1824 ڈالرز ہو گئی۔ رواں مالی سال زرعی شعبے کی شرح نمو 0.56 فیصد، صنعت اور معدنیات کے شعبے میں شرح نمو 4.7 فیصد ہوئی۔ جنگلات اور فشریز میں 0.56 فیصد کا اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال خدمات میں 2.91 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.53 فیصد کمی ہوئی اور چھوٹی صنعتوں کی پیداوار میں 8.81 فیصد اضافہ ہوا۔ تعمیرات کی شعبے میں 6.61 فیصد اور بجلی گیس پانی کی گروتھ 28.88 فیصد رہی۔ واضح رہے کہ حکومت گزشتہ دو سالوں کے دوران بھی معاشی ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ برس وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت مقرر نہیں کی گئی تھی جس کے باعث کسانوں کو بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ گزشتہ برس ہی کسانوں کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کا بھاری نقصان ہوا، اس لیے آئندہ سال گندم کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ جبکہ رواں سال بھی حکومت نے گزشتہ برس کی پالیسی کو برقرار رکھا، جس باعث رواں سال بھی کسانوں کو مزید بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ اسی باعث آئندہ سال بھی گندم کی پیداوار میں مزید کمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گندم کی پیداوار میں رواں مالی سال کمی ہوئی کہ رواں فیصد کم ملین ٹن کمی ہو
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔