میانمار میں شدید زلزلے کے دوران زمین کے پھٹنے اور سرکنے کے نادر لمحات کی ویڈیوجاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
ینگون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 مئی2025ء)میانمار میں تقریبا دو ماہ پہلے آنے والے زلزلے کے نایاب وڈیو کلپ نے ماہرینِ ارضیات کو حیران کر دیا ہے۔ وڈیو میں 7.7 شدت کے زلزلے کے دوران زمین کی پرت کو پھٹتے اور سرکتے ہوئے براہِ راست دیکھا جا سکتا ہے۔
(جاری ہے)
میڈیارپورٹس کے مطابق عام طور پر سائنس دان زلزلے کے بعد زمین کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرتے ہیں، لیکن بہت کم مواقع پر یہ مظاہر خود زلزلے کے لمحے میں کیمرے میں محفوظ ہو پاتے ہیں۔ مگر اس بار میانمار میں شمسی توانائی کی ایک تنصیب میں لگے نگرانی کیمرا نے زمین کے پھٹنے اور دراڑوں کے ظاہر ہونے کے مناظر کو لمحہ بہ لمحہ محفوظ کر لیا۔ بعد ازاں یہ وڈیو فیس بک پر وسیع پیمانے پر وائرل ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے زلزلے کے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔