میانمار میں شدید زلزلے کے دوران زمین کے پھٹنے اور سرکنے کے نادر لمحات کی ویڈیوجاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
ینگون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 مئی2025ء)میانمار میں تقریبا دو ماہ پہلے آنے والے زلزلے کے نایاب وڈیو کلپ نے ماہرینِ ارضیات کو حیران کر دیا ہے۔ وڈیو میں 7.7 شدت کے زلزلے کے دوران زمین کی پرت کو پھٹتے اور سرکتے ہوئے براہِ راست دیکھا جا سکتا ہے۔
(جاری ہے)
میڈیارپورٹس کے مطابق عام طور پر سائنس دان زلزلے کے بعد زمین کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرتے ہیں، لیکن بہت کم مواقع پر یہ مظاہر خود زلزلے کے لمحے میں کیمرے میں محفوظ ہو پاتے ہیں۔ مگر اس بار میانمار میں شمسی توانائی کی ایک تنصیب میں لگے نگرانی کیمرا نے زمین کے پھٹنے اور دراڑوں کے ظاہر ہونے کے مناظر کو لمحہ بہ لمحہ محفوظ کر لیا۔ بعد ازاں یہ وڈیو فیس بک پر وسیع پیمانے پر وائرل ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے زلزلے کے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔