— جنگ فوٹو 

وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء القیوم کو ان کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دے کر فارغ کر دیا ہے۔

ضیاء القیوم کی جگہ مشیر منصوبہ بندی و ترقیات مظہر سعید کو قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کر دیا ہے۔ 

مظہر سعید بنیادی طور پر کمیشن میں ڈی جی کے عہدے پر تعینات ہیں اور ان کے پاس مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات کا اضافی چارج بھی ہے۔ 

ضیاء القیوم کو ہٹانے کی منظوری بدھ کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار نے کی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا اجلاس ایک گھنٹے تک جاری رہا جس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی کارکردگی رپورٹ پاور پوائنٹ پر دکھائی گئی جس کے بعد ان کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دے کر انہیں فارغ کردیا گیا۔ 

ڈاکٹر ضیاء القیوم کو 2023ء میں 4 سالہ مدت کےلیے ای ڈی تعینات کیا گیا تھا جبکہ موجودہ چیئرمین ڈاکٹر مختار جن کی ایک سالہ توسیع شدہ مدت 28 جولائی کو مکمل ہو رہی ہے طویل عرصے تک ایچ ای سی کا حصہ رہے ہیں اور چیئرمین بننے سے قبل وہ ای ڈی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق چیئرمین ڈاکٹر مختار کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کے اندر ای ڈی کی آسامی کا اشتہار بھی دے دیا جائے گا۔ 

یاد رہے کہ ڈاکٹر مختار اور ضیاء القیوم کے درمیان کئی انتظامی معاملات پر اور اربوں کی غیر ملکی امداد سے چلنے والے دو منصوبوں پر اختلافات تھے جن میں 12 ارب روپے کے 1 لاکھ لیپ ٹاپ کی خریداری کا معاملہ بھی شامل تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ہائر ایجوکیشن کمیشن ایگزیکٹو ڈائریکٹر ضیاء القیوم ڈاکٹر مختار

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن