پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت کے حوالے سے خبروں کی واضح تردید
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
ایک بیان میں پی پی رہنما نے کہا کہ نہ ہمیں کوئی پیشکش کی گئی ہے اور نہ ہی پارٹی قیادت حکومت میں شمولیت پر غور کر رہی ہے، میڈیا میں چلنے والی خبریں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں شمولیت سے متعلق جاری خبروں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں محض قیاس آرائیاں قرار دیا ہے۔ پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ عطا مری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نہ ہمیں کوئی پیشکش کی گئی ہے اور نہ ہی پارٹی قیادت حکومت میں شمولیت پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں چلنے والی خبریں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی جولائی میں وفاقی کابینہ میں شامل ہونے جا رہی ہے اور وزارتوں کی تقسیم پر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ مقتدر حلقوں نے دونوں جماعتوں کو ایک پیج پر لا کر آئندہ سیاسی نقشہ تیار کر لیا ہے اور دیگر جماعتوں کو بھی اس حکمت عملی میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ مقتدر قوتوں نے دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کو ایک پیج پر لانے میں کردار ادا کیا ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے ان خبروں کی دوٹوک تردید کے بعد یہ قیاس آرائیاں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ تاہم شازیہ مری کے تازہ ترین بیان کے بعد یہ تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں اور پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں شمولیت کے امکان کو فوری طور پر رد کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت میں شمولیت پیپلز پارٹی جماعتوں کو ہے اور
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔