پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں شمولیت سے متعلق جاری خبروں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں محض قیاس آرائیاں قرار دیا ہے۔ پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ عطا مری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نہ ہمیں کوئی پیشکش کی گئی ہے اور نہ ہی پارٹی قیادت حکومت میں شمولیت پر غور کر رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں چلنے والی خبریں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی جولائی میں وفاقی کابینہ میں شامل ہونے جا رہی ہے اور وزارتوں کی تقسیم پر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ مقتدر حلقوں نے دونوں جماعتوں کو ایک پیج پر لا کر آئندہ سیاسی نقشہ تیار کر لیا ہے اور دیگر جماعتوں کو بھی اس حکمت عملی میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ مقتدر قوتوں نے دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کو ایک پیج پر لانے میں کردار ادا کیا ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے ان خبروں کی دوٹوک تردید کے بعد یہ قیاس آرائیاں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔

تاہم شازیہ مری کے تازہ ترین بیان کے بعد یہ تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں، اور پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں شمولیت کے امکان کو فوری طور پر رد کر دیا ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: حکومت میں شمولیت پیپلز پارٹی جماعتوں کو ہے اور تھا کہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے