پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں شمولیت سے متعلق جاری خبروں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں محض قیاس آرائیاں قرار دیا ہے۔ پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ عطا مری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نہ ہمیں کوئی پیشکش کی گئی ہے اور نہ ہی پارٹی قیادت حکومت میں شمولیت پر غور کر رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں چلنے والی خبریں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی جولائی میں وفاقی کابینہ میں شامل ہونے جا رہی ہے اور وزارتوں کی تقسیم پر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ مقتدر حلقوں نے دونوں جماعتوں کو ایک پیج پر لا کر آئندہ سیاسی نقشہ تیار کر لیا ہے اور دیگر جماعتوں کو بھی اس حکمت عملی میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ مقتدر قوتوں نے دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کو ایک پیج پر لانے میں کردار ادا کیا ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے ان خبروں کی دوٹوک تردید کے بعد یہ قیاس آرائیاں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔

تاہم شازیہ مری کے تازہ ترین بیان کے بعد یہ تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں، اور پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں شمولیت کے امکان کو فوری طور پر رد کر دیا ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: حکومت میں شمولیت پیپلز پارٹی جماعتوں کو ہے اور تھا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل