Express News:
2026-07-24@09:07:27 GMT

عوام ’’دوست‘‘ حکومتی اقدامات اور پیپلز پارٹی

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے ہماری تجاویز مان لیں، اس لیے ہم نے بجٹ کو سپورٹ کیا۔

حکومت نے ایف بی آر اختیارات میں ترمیم اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام فنڈ میں اضافہ جو 20 فی صد تھا منظور ہونے کے بعد پیپلز پارٹی نے بجٹ منظور کرایا ہے اور پیپلز پارٹی کے کہنے پر وزیر اعظم میاں شہباز شریف ہر سال بے نظیر انکم سپورٹ کی رقم پر اضافہ کرتے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے مستحقین کو بڑا فائدہ ہو رہا ہے۔ ہماری تجاویز کی منظوری کے بعد ہی پیپلز پارٹی نے نئے بجٹ کو پاس کرانے میں اپنا کردار ادا کیا جس سے حکومت کو مطلع کر دیا گیا تھا۔

نئے بجٹ پر پیپلز پارٹی کے کچھ تحفظات تھے جنھیں دور کرنے کے لیے بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار نے اتفاق کیا ہے جس کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنا یہ دوسرا بجٹ منظور کرایا اور حکومت نئے بجٹ پر 201 ممبران قومی اسمبلی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی جب کہ اپوزیشن کے 57 ممبران اسمبلی نے بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

حکومت نے اپوزیشن کی پیش کردہ ترامیم اکثریت رائے سے مسترد کر دیں اور حکومت نے پیپلز پارٹی کی مشاورت سے اپنا بجٹ منظور کرا لیا۔ نئے بجٹ میں حکومت سولر پینلز کی درآمد پر 18 فی صد سیلز ٹیکس لگانا چاہتی تھی جس پر پیپلز پارٹی نے ٹیکس کی مخالفت کی تھی مگر بعد میں پیپلز پارٹی یہ ٹیکس ختم تو نہ کرا سکی اور حکومت صرف 8 فی صد ٹیکس کم کرنے پر راضی ہوئی اور حکومت نے سیلز ٹیکس دس فی صد کر دیا اور نان فائلرز کے لیے حکومت سخت پالیسی نافذ نہ کرا سکی جس پر ملک کی تاجر برادری اور پیپلز پارٹی کے تحفظات تھے جس کے بعد حکومت نے نان فائلرز کو 70 لاکھ روپے تک کی کاریں خریدنے کی اجازت دے دی اور رہائشی املاک کے مالکان کو 6.

5 فی صد ہولڈنگ ٹیکس سے بھی مستثنیٰ قرار دینا پڑا۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا میاں شہباز شریف کی قیادت میں یہ دوسرا بجٹ منظور ہوا جو پہلی بار وزیر خزانہ بننے والے غیر سیاسی شخصیت محمد اورنگزیب نے پیش کیا اور نان فائلرز کے خلاف حکومتی پالیسی بہت ہی سخت رہی اور ایف بی آر کی ریکوری کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے نان فائلرز کے لیے جو پالیسی بنانا چاہی تھی اس میں اس بار بھی کامیاب نہ ہو سکی۔

کے پی کے مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں سال وفاق نے ایک کھرب سے کم ٹیکس جمع کیا جس کی وجہ سے ہمارے لیے 90 ارب کی کمی ہوئی ہے۔ عشروں سے یہی دیکھا جا رہا ہے کہ ایف بی آر اپنے اہداف کی وصولی میں کامیاب نہیں رہی مگر اعداد کے ہیر پھیر سے کامیابی ظاہر کی جاتی رہی ہے اور من پسند افسروں پر نوازشات تو جاری رہیں جنھوں نے اپنے مقررہ اہداف حاصل کیے ان کی کارکردگی کی تعریف تو اصولی طور ہونی چاہیے مگر جو افسران اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہے ہیں ان کے خلاف ایف بی آر کی جانب سے کارروائی کی نہیں جاتی جب کہ اہداف کے حصول میں ناکام رہنے والوں کی نااہلی پر ان کے خلاف کارروائی کی تشہیر ہونی چاہیے تاکہ دوسروں کو سبق حاصل ہو۔

ٹیکس نہ دینا بھی غلط ہے مگر نان فائلرز فائلر بن کر ٹیکس کیوں ادا نہیں کرتے ٹیکس چوری کرتے ہیں اور ایف بی آر کے شکنجے میں کیوں کتراتے ہیں،حکومت کو اس کی وجوہات جاننے پر سب سے پہلے توجہ دینی چاہیے تھی کہ چھوٹے بڑے تاجر اور صنعتکار ٹیکس کیوں اور پورا ادا نہیں کرتے۔ ٹیکس سے کیوں بچا جاتا ہے یا ٹیکس کم کیوں مل رہا ہے اس کی وجوہات چھپی ہوئی نہیں حکومت کو بھی حقائق کا علم ضرور ہوگا اگر نہیں ہے تو وہ متعلقہ افراد سے مل کر معلومات لے کر ٹیکس وصولی کا آسان راستہ نکال سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے نئے بجٹ کی منظوری کے لیے دباؤ ڈال کر حکومت سے اس بار بھی 20 فی صد رقم بڑھوا لی ہے جس کا اسے مزید سیاسی فائدہ ہوگا اور بعض علاقوں میں اس کا ووٹ بینک بھی بڑھے گا مگر پیپلز پارٹی سولر پینلز پر سیلز ٹیکس حکومت سے مکمل ختم نہ کرا سکی کیونکہ اس کا اسے سیاسی فائدہ نہیں ہونا تھا اگر پی پی عوام کا اجتماعی مفاد پیش نظر رکھتی تو یہ ٹیکس مکمل طور پر ختم کرا سکتی تھی ۔

موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی آڑ لے کر عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے سہولیات ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ حکومتی عہدیداروں کو سولر پینلز کی ضرورت نہیں ، سولر پینلز کی ضرورت ان لوگوں کو ہے جو لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں اور بجلی کے بھاری بل مجبوراً ادا کر رہے ہیں اور سولر پینلز لگوا کر اپنا یہ مسئلہ حل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں تو حکومت نے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس لگا کر یہ سہولت مہنگی کرا دی جب کہ حکومت پر اعتماد کرکے جن لوگوں نے لاکھوں روپے سے سولر پینلز لگا کر اپنی بجلی کی ضرورت پوری کی تھی اور اپنی فاضل بجلی حکومت کو فروخت کرکے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرانے کی کوشش کی تھی ان کی کوشش کو سراہنے کے بجائے حکومت نے ان سے خریداری کا نرخ کم کر دیا جب کہ حکومت خود بجلی کے من مانے نرخ وصول کر رہی ہے۔

بجٹ منظوری میں ایم کیو ایم کہاں غائب رہی وہ تو سالوں سے غیر قانونی طور پر نافذ کوٹہ سسٹم بھی ختم نہ کرا سکی۔ پیپلز پارٹی اگر چاہے تو وہ مزید ٹیکس ختم کرا سکتی تھی جس پر بلاول بھٹو کا اسحاق ڈار سے اتفاق بھی ہوا ہے اس لیے پیپلز پارٹی کو حکومت کے مزید عوام دشمن اقدامات ختم کرانے چاہئیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی کے سولر پینلز نان فائلرز نہ کرا سکی سیلز ٹیکس اور حکومت ایف بی آر حکومت نے حکومت کو کہ حکومت رہے ہیں کے لیے کے بعد

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف