اسلام آباد (نیوز ڈیسک) شہباز شریف کی چوہدری نثار کی ملاقات نے نئی سیاسی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔انہوں نے مسلم لیگ نون کو اس وقت مفارقت دی جب نواز شریف مقدمات کا سامنا کر رہے تھے انہیں مریم کا عروج گوارا نہیں تھا حالانکہ وہ انہیں انکل پکارتی تھیں، مسلم لیگ سے راہیں جدا کرنے کے بعد عباسی آج بھی سیاسی ٹھکانے کی تلاش میں ہیں، چوہدری نثار علی خان اپنے اکلوتے صاحبزادے تیمور علی خان کیلئے محفوظ سیاسی مستقبل کیلئے سرگرداں ہیں وہ بھی ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات میں شامل تھے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ اور شریف برادران تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ اپنے رفیق کار چوہدری نثار علی خان سے اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف نے ان کی اقامت گاہ پر جاکر ملاقات کرکے نئی سیاسی قیاس آرائیںوں کو جنم دیدیا ہے چوہدری نثار علی خان جنہیں صحت کے مسائل کا سامنا ہے نواز شریف سے اس وقت الگ ہوگئے تھے جب وہ وزیراعظم نہیں رہے تھے اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف عملی طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت کے لئے سرگرم ہوگئی تھیں چوہدری نثار نے مریم نواز شریف کی حمایت کی قیادت کے لئے آگے بڑھتا دیکھ کر ابتدا مزاحمت کی اور پھر پاکستان مسلم لیگ نون سے یہ کہہ کہ الگ ہوگئے کہ ان کے لئے میریم نواز شریف کو ’’میڈم‘‘ کہنا دشوار ہوگا جو انہیں ہمیشہ انکل کہہ کر پکارتی تھیں وہ پاکستان مسلم لیگ نون کے شاہد خاقان عباسی کے بعد دوسرے قد آور رہنما تھے جن کے لئے مریم نواز شریف کا نیا اورقائدانہ کردار گوارا نہیں تھا ان دونوں رہنمائوں نے مریم نواز شریف کے حسن تدبر اور بڑوں کے ساتھ احترام کے اطوار کا سرے سے کوئی تجربہ ہی نہیں کیا تھا اور بزرگ ہونے کے باوجود و جذباتی طور طریقہ اختیار کیا تھا۔ ان دونوں رہنمائوں کی جماعت سے راہیں جدا کئے جانے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو ذاتی طور پر بھی تعلق تھا تاہم وہ ان کے رد عمل پر خاموش رہے شاہد خاقان عباسی کو نواز شریف نے اپنے خلاف عدالتی فیصلے کے بعد اس وقت وزیراعظم نامزد کردیا تھا جب پاکستان مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی شہباز شریف کو منتخب کرچکی تھی عباسی کو شہباز شریف کے قومی اسمبلی کارکن منتخب ہونے تک کے دنوں کے لئے وزیراعظم تھا۔ نواز شریف نے نہیں قومی اسمبلی کا انتخاب ہار گئے تو نواز شریف نے انہیں اپنے بھتیجے حمزہ شہباز کی لاہور سے خالی کردہ نشست پر جتوا کر قومی اسمبلی میں بھجوایا تھا ۔ اس کے باوجود انہیں مریم نواز شریف کی بلند پروازی نے ہراساں کردیا اور وہ اسدن سے اپنے لئے ٹھکانے کی تلاش کررہے ہیں قابل اعتماد سیاسی ذرائع نےجنگ /دی نیوز کو بتایا ہے کہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں اپنے لئے کسی سیاسی کردار کی درخواست نہیں کی وہ صحت بحال ہونے تک خاموش رہنا چاہتے ہیں انہوں نے اپنی ڈیڑھ گھنٹے کی گفتگو میں اپنے علاوہ نواز شریف کی خریت دریافت کرنے کے علاوہ مریم نواز شریف کے بارے میں وضعدارانہ احترام کے ساتھ ان کے سیاسی گردار کے حوالے سے استفسارات کئے ۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان مسلم لیگ نون چوہدری نثار علی خان مریم نواز شریف شہباز شریف شریف نے شریف کی کے لئے

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف