امام حسینؑ کا پیغام رہتی دنیا تک مظلوموں کی آواز ہے، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
یوم عاشورہ پر پیغام میں مراد علی شاہ نے کہا کہ یزیدیت کے خلاف امام حسین کا انکار دراصل تاریخ کا سب سے بڑا اعلانِ آزادی تھا۔، سندھ کی دھرتی نے ہمیشہ امام حسینؑ کے پیغام کو دل سے لگایا اور صوبے کے صوفی بزرگوں نے بھی اس پیغام کو محبت، انسانیت، عدل اور آزادی سے جوڑا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یوم عاشورہ کے موقع پر حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلاؑ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواسہ رسولؑ نے دین کی بقا اور امت کی اصلاح کے لیے عظیم قربانی پیش کی، امام حسینؑ اور انکے 72 جانثاروں نے حق کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں جو تاریخ انسانیت میں ایک روشن مثال ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کربلا کا واقعہ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ فکری، روحانی اور اخلاقی تحریک ہے جو ہمیں صبر، قربانی اور استقامت کا سبق دیتی ہے، امام حسینؑ کا پیغام ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے کا نام ہے جس نے باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یزیدیت کے خلاف امام حسین کا انکار دراصل تاریخ کا سب سے بڑا اعلانِ آزادی تھا۔، سندھ کی دھرتی نے ہمیشہ امام حسینؑ کے پیغام کو دل سے لگایا اور صوبے کے صوفی بزرگوں نے بھی اس پیغام کو محبت، انسانیت، عدل اور آزادی سے جوڑا۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شاہ لطیف بھٹائی کی شاعری میں امام حسینؑ کا غم اور ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے جبکہ سندھ میں منعقدہ عزاداری، مجالس اور جلوس صوبے کے امن، اتحاد اور عقیدت کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کے ماننے والے ہمیشہ حق اور صداقت کے علمبردار رہیں گے اور ان کا پیغام رہتی دنیا تک مظلوموں کی آواز بن کر گونجتا رہے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محرم الحرام کے پیغام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ ہمیں رواداری، یکجہتی اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم عاشور کے موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں اور مجالس و جلوسوں کے دوران امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ پیغام کو کا پیغام
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔