امام حسین ؑ کے کلام و سیرت میں مقاومت کی تعریف اور مفھوم
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
عاشورہ محرم الحرام کے حوالے سے خصوصی پروگرام
موضوع: امام حسین ؑ کے کلام و سیرت میں مقاومت کی تعریف اور مفھوم
مہمان: علامہ ڈاکٹر سید میثم ہمدانی
میزبان و پیشکش: سید انجم رضا
عاشورہ محرم کوکربلا میں ہونے والے معرکہ کا مقصد امام حسین ؑکے نزدیک اسلام کے ان سنہری اصولوں کی حفاظت کرنا تھا جنھیں ملوکیت کی ضرب سے مسمار کیا جارہا تھا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی مزاحمت حق و صداقت کے لیے تھی اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے۔ آپ نے یزید کی بیعت سے انکار کر کے اسلامی اصولوں اور اقدار کا دفاع کیا۔ آپ کی مزاحمت نے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ظلم کے خلاف جدوجہد کا جذبہ بیدار کیا۔
موضوعات و سوالات
1۔ امام حسین ع کے کلام و سیرت میں مقاومت کی تعریف اور مفھوم
2۔ کیا مقاومت کو کلچرل اور حسینی ؑتہذیب کا نام دیا جا سکتا ہے؟
3۔ مقاومت انسانی سعادت و کمال ہے۔
جیسے امام حسین علیہ السلام اپنے قیام کو لقاء اللہ اور امر بالمعروف کے حصول کا راستہ بتاتے ہیں۔
خلاصہ گفتگو و اہم نکات
عاشورا کا دن اصل ِ دین کی بقا کا یوم ہے
امام حسینؑ نے اپنے خون سے حیات ِ انسانی کو گلگوں کرکے باعزت بنادیا
ایام عاشوہ محرم میں مجالسِ عزاداری برپا کرنے کی بہت اہمیت ہے اس کو امرِ امامت کہا گیا ہے
اسی طرح امام حسینؑ کے پیغام اور کربلا برپا کرنے کے مقصد کو سمجھنا بہت اہم ہے
امام حسینؑ کی مزاحمت کو سمجھنے کا بہترین طریقہ امام حسینؑ کی گفتگو و کلام ہے
یزید کے باپ کے دورِ اقتدار میں بھی امام حسین ؑ کا منیٰ میں خطبہ بہت اہمیت کا حامل ہے
امام حسینؑ نے مدینہ روانگی سے لے کر مکہ پہنچ کر اور پھر کربلا میں کئی بار اپنے مقصد کا ذکر کیا
مقاومت و مزاحمت کو امام حسینؑ کی تمام زندگی کا خلاصہ کہا جائے تو عین حق ہے
صرف امام حسینؑ نے ہی نہیں بلکہ تمام انبیا و آئمہ ؑ نے بھی اپنے اپنے زمانے کے مطابق مقاومت و مزاحمت کی ہے
مقاومت و مزاحمت الٰہی راستہ ہے
مقاومت و مزاحمت کے مسلح جد وجہد کے علاوہ اور بھی کئی پہلو ہیں
امام حسینؑ کے خطبات و إرشادات سے مقاومت کاایک مفہوم "عزت کی زندگی" ہے
جنگ، مذاکرات، صلح ، گفتگو حتیٰ کہ شہادت میں اگر "عزت کی زندگی" ہے تو یہی مقاومت و مزاحمت ہے
اما م حسینؑ کا خطبہ عاشورا مام کے مقصد کا واضح اعلان ہے
امام حسینؑ خطبہ عاشور امیں فرماتے ہیں " مجھے ذلت کی زندگی قبول نہیں"
امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ ذلت کی زندگی ہم اہلِ بیتؑ اور ہمارے ماننے والوں کو بھی قبول نہیں
اللہ کے حلال کو حرام کرنے ولا، رسول اللہ کی سُنت کی مخالفت کرنے والے حکمران سے مقاومت کرنی ضروری ہے
امام زین العابدینؑ کا دربارِ شام میں یزید ملعون کے ساتھ مکالمہ کرنا ، حق بیان کرنا بھی مقاومت ہے
امام معصوم ؑ کی حکمت ظالم کے مقابلے میں قول اور فعل کی صورت میں ڈٹ جانا ہے
امام حسینؑ نے خود اپنے ماننے والوں کو عزت پہ کمپرو مائز نہ کرنے کی تاکید کی ہے
حسینیؑ تہذیب میں الٰہی طرز زندگی گزارنا بھی مقاومت و مزاحمت ہے
رہبرِ معظم آیة اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی حسینیؑ ثقافت سے مزین ہے
نیتن یاہو اور صیہونیوں کا طرزِ زندگی شیطانی کلچر ہے
امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ امر بالمعروف واجب ہے خصوصاً علما کے کے لئے
امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ اگر بالمعروف نہ کیا تو طاغوت تم پہ حاوی ہوجائے گا
آج کاروانِ حسینی ؑ امریکہ اسرائیل جیسے طاغوت کے سامنے ڈٹ گیا ہے
فرہنگ حسینیؑ عزت کو قبول کرنا اور ذلت کو رد کرنا ہے
مومن اگر اپنی زندگی میں کمال چاہتا ہے تو "عزت بخش حیات" کو ہدف بنائے
ایسی عزاداری جس میں طاغوت و یزیدیت کو للکارا جائے وہی طریقِ حسینیؑ ہے
امام حسینؑ کی سی زندگی اور شہادت ہی نجات کا راستہ ہے
امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ شہادت آگاہانہ موت ہے
امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ مومن کا دشمن وحشی درندہ ہے
آج اسرائیل اور امریکہ ایک وحشی درندے کی مثل ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقاومت و مزاحمت فرماتے ہیں کہ ہے امام حسین کی زندگی
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔