بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود مزید ایک ماہ بند رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود مزید ایک ماہ بند رکھنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود مزید ایک ماہ بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پہلگام حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے چلتے پاکستان نے 24 اپریل کو بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود ایک ماہ کیلئے بند کر دی تھیں۔
پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ائیر لائنز کو ایک ماہ میں 800 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم اب پابندی مزید برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اعلان آج یا کل متوقع ہے، جس کے بعد نوٹم جاری کیا جائے گا۔ پابندی برقرار رہنے کی صورت میں بھارتی حکومت نے اگر ائیر لائنز کے مطالبات کے مطابق خصوصی مدد نہیں کی تو انہیں آپریشن برقرار رکھنے کیلئے غیر معمولی اور بڑے فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارتی ائیرلائنز کو صرف ایندھن کی مد میں لگ بھگ 500 کروڑ روپے کا جھٹکا لگا ہے جبکہ اسٹاپ اوور کے 30 دن کے اخراجات 3 ارب روپے لگائے گئے ہیں، ماہرین کے مطابق بوئنگ 777 طیارہ 1 گھنٹے میں 6668 کلوگرام اور ائیر بس اے 319، 320 یا 321 طیارہ 1 گھنٹے میں اوسط 2400 کلوگرام ایندھن استعمال کرتا ہے، ایک کلوگرام جیٹ ایندھن کی اوسط قیمت اشاریہ 82 ڈالر ہے اور بھارت میں 6668 کلوگرام جیٹ ایندھن کی موجودہ قیمت 5467 ڈالر بنتی ہے، بوئنگ 777 یا 787 طیاروں کی یومیہ 75 گھنٹے اضافی پروازوں صرف ایندھن کی مد میں 4 لاکھ 10 ہزار ڈالر کا اضافی خرچ پڑتا ہے، اسی طرح ائیر بس اے 319، 320 یا 321 طیارے کی ایک گھنٹے کی پرواز کا اضافی فیول 1968 ڈالر بنتا ہے اور یومیہ 75 گھنٹے اضافی پروازوں پر ایندھن کی مد میں 1 لاکھ 47 ہزار ڈالر کے اضافی اخراجات لگتے ہیں۔
بھارتی ائیر لائن کی پروازوں کو 2 سے 4 گھنٹے تک اضافی سفر کرنا پڑ رہا ہے مگر یہاں 150 گھنٹے کا حساب کتاب سامنے رکھا گیا ہے، بھارت سے امریکا، کینیڈا، یورپ، برطانیہ یا دیگر ممالک آنے جانے کیلئے 75 بوئنگ اور 75 ائیر بس طیاروں کے روزانہ 2 گھنٹے اضافی سفر پر 5 لاکھ 57 ہزار 625 ڈالر کا اضافی ایندھن جلانا پڑا ہے، ائیر انڈیا اور دیگر بھارتی ائیرلائنز کے صرف ایندھن کے اضافی اخراجات 5 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں، طویل روٹس کی بھارتی پروازوں کے عملے کو ڈیوٹی ٹائم دورانیے کی وجہ سے ٹرانزٹ ائیرپورٹس پر بدلنا پڑرہا ہے، ساتھ ہی 2 بار لینڈنگ، ری فیولنگ اور ائیرپورٹ چارجز کی مد میں یومیہ لاکھوں ڈالر دینے پڑرہے ہیں جس کے 30 دن کے اخراجات کا تخمینہ ڈھائی سے 3 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
بندش سے سب سے زیادہ ائیرانڈیا متاثر ہوئی ہے جو حکومت سے امداد کا مطالبہ کرچکی ہے اس کے علاوہ آکاسا ائیر، اسپائس جیٹ، انڈیگو ائیر اور ائیرانڈیا ایکسپریس کی پروازیں بھی پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے جزوی متاثرہیں۔ امرتسر، دہلی، احمدآباد، بنگلور جے پور کی پروازوں کو لگ بھگ پورے بھارت پر سفر کرکے بحیرہ عرب سے گزرنا پڑ رہا ہے، ذرائع کے مطابق یہ پابندی برقرار رہی تو بھارتی ائیر لائنز کو کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے علاوہ روٹس کے رد و بدل کے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچالیس ارب کا میگا اسکینڈل، نیب نے پی ٹی آئی کی 2سیاسی شخصیات کو بڑی ٹرانزیکشنز کا پتہ لگالیا چالیس ارب کا میگا اسکینڈل، نیب نے پی ٹی آئی کی 2سیاسی شخصیات کو بڑی ٹرانزیکشنز کا پتہ لگالیا مشیرخزانہ پختونخوا نے صوبے کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے وفاق کو خط لکھ دیا پی ٹی آئی کی جانب سے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ ملنے پر مبارکباد پاکستان کی غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت، نسل کشی مہم ختم کرنے کا مطالبہ وزیراعظم ہنگامی دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے، امن و امان سے متعلق اہم اجلاس متوقع لکی مروت اور بنوں سے پولیو کے دو نئے کیسز ، رواں سال کیسز کی تعداد 10ہو گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستانی فضائی حدود بھارتی پروازوں رکھنے کا فیصلہ بھارتی ائیر ایندھن کی کی مد میں کے مطابق ایک ماہ گیا ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔