سکولوں میں چھٹیاں مزید تین ہفتے نہ کرنے کا ظالمانہ فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
گرمیاں "وقت سے پہلے" آ گئیں لیکن ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لال بھجکڑ بضد ہیں کہ سکولوں کے بچوں کو گرمیوں کی چھتیاں نہیں دیں گے۔ ایک صوبے کے ایجوکیشج ڈیپارٹمنٹ نے آج سکولوں کو چھٹیاں نہ دینے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن کر دیا۔ صوبائی دارلحکومت میں آج ٹمپریچر شام سات بجے 43 ڈگری سیلسئیس تھا۔
کل پنجاب کی حکومت نے اپنے جلد چھٹیاں کرنے کے وعدے کو فراموش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سکولوں میں چھٹیاں 29 مئی کو ہوں گے، آج ایک اور صوبے نے پنجاب حکومت کی پیروی کرتے ہوئے سکولوں کے بچوں کو "وقت سے پہلے" تو کیا، "وقت پر" بھی گرمیوں کی چھٹیاں دینے سے انکار کر دیا۔ گرمیاں "وقت سے پہلے" آ گئی ہیں لیکن ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے افسران اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں کہ مئی کے تیسرے ہفتے ٹمپریچر بچوں کو سکول بھیجنے کے لئے مناسب نہیں ہیںْ
ڈالر مہنگا ہوگیا
خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت نے آج بدھ کے روز سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا ہے۔ آج پشاور مین ٹمپریچر شام سات بجے 43 ڈگری سیلسئیس ہے، دوسرے بڑے شہر مردان میں بھی آج شام سات بجے ٹمپریچر اتنا ہی شدید ہے۔ کل اور آنے والے دنوں میں ان شہروں میں گرمی شدید رہے گی۔
محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی ہیٹ ویوو کی موجودگی اور ہیٹ سٹروک کے خطرے کے متعلق الرٹ اور وارننگز جاری کر چکے ہیں لیکن ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے باز آنے پر آمادہ نہیں۔
پی ایس ایل 10؛ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
یہ وہی بزدل دشمن کی پراکسیز ہیں جس نے حالیہ پاکستان پر حملہ کر کے منہ کی کھائی؛ عظمٰی بخاری
الٹا فیصلہ!
محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعلان کے مطابق سمر زون یعنی میدانی علاقوں میں پرائمری سکول یکم جون سے 31 اگست تک بند رہیں گے، جب کہ مڈل ، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات 15 جون سے 31 اگست تک ہوں گی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے "ونٹر زون" میں گرمیوں کی تعطیلات یکم جولائی سے 31 جولائی تک ہوں گی۔
پنجاب اسمبلی اجلاس؛ پنجاب اینٹی ٹیرارازم ترمیمی بل 2025 منظور
خیبر پختونخواہ (کے پی کے) میں، "سمر زون" مین صوبہ کے تمام میدانی علاقے شامل ہیں، اور ونٹر زون میں بلند پہاڑی علاقے شامل ہیں۔ روایتاً سمر زون کے سکولوں میں عام طور پر یکم جون سے 31 اگست تک موسم گرما کی تعطیلات ہوتی ہیں، جب کہ "ونٹر زون" کے سکولوں میں یکم جولائی سے 31 جولائی تک ہوتی ہیں۔
اس سال اپریل اور مئی کے مہینوں میں سخت گرمی پڑنے کے باوجود خیبر پختونخوا کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے سمر زون کے سکولوں کو پندرہ جون تک کھلا رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں بہت سے بچے دور کے علاقوں سے پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔
تاہم، ایسے واقعات ہوئے ہیں جب سمر زون میں موسم سرما کی تعطیلات عوام کے لیے ہیں، ایسے تعلیمی اداروں میں 5 جنوری تک توسیع کی گئی ہے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وفاقی حکومت کا ہنگامی اقدام، 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی یقینی بنانے اور صوبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ وفاق اور چاروں صوبوں کے درمیان گندم کے ذخائر، سپلائی اور قیمتوں کی موجودہ صورتحال پر ہونے والے تفصیلی مشاورتی اجلاس میں اتفاقِ رائے سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:کیا اس سال پاکستان میں گندم کا بحران پیدا ہوسکتا ہے؟
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عوام کو سستی اور معیاری گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک میں گندم کی قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
پاسکو کے ذخائر صوبوں کو فراہم کرنے کا فیصلہمشاورت کے دوران طے پایا کہ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن، ‘پاسکو’، کے پاس موجود گندم کے ذخائر فوری طور پر صوبوں کی ضروریات کے مطابق جاری کیے جائیں گے تاکہ طلب اور رسد کے درمیان موجود فرق کو کم کیا جا سکے۔
تاہم اجلاس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ صوبوں کی مجموعی ضرورت پاسکو کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے، جس کے باعث اضافی گندم درآمد کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گیوفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملکی ضروریات پوری کرنے اور گندم کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم بیرون ملک سے درآمد کی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف طلب پوری ہوگی بلکہ مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام میں بھی مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر غذائی تحفظ کا بیانوفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت عوام کو سستی اور معیاری گندم کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل پر پابندیاں، بلوچستان میں آٹے کا شدید بحران، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
ان کے مطابق پاسکو کے موجودہ ذخائر فوری طور پر صوبوں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ صوبوں کی مجموعی ضرورت دستیاب سرکاری ذخائر سے زیادہ ہے، اس لیے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ملکی ضروریات پوری ہوں گی اور گندم کی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
حکومت اس سے قبل بھی گندم کی فراہمی اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کرتی رہی ہے۔
حالیہ فیصلے کا مقصد بڑھتی ہوئی طلب، صوبوں کی ضروریات اور ممکنہ سپلائی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت انتظامات کرنا ہے، تاکہ ملک بھر میں گندم اور آٹے کی دستیابی متاثر نہ ہو اور عوام کو مناسب نرخوں پر اشیائے خور و نوش فراہم کی جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ ٹن گندم پاسکو درآمد کرنے کا فیصلہ گندم وفاقی حکومت وفاقی وزیر