شہر قائد کے علاقے جوہر آباد تھانے کی حدود سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی فرسٹ ائیر کی طالبہ کے کیس کا ڈراپ سین ہوگیا۔ طالبہ کو اسکا منگیتر حیدر آباد سے لیکر واپس گھر پہنچ گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق 19 مئی کو امتحان دینے کیلیے کالج جانے والی لڑکی گھر واپس نہیں پہنچی اور بھائی کے پاس اُس کا ایک وائس نوٹ آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہم چار لڑکیوں کو کچھ لڑکے اغوا کررہے ہیں۔

پولیس نے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی اور لڑکی کا سراغ لگایا تو متاثرہ طالبہ فضا دختر سلیم اپنے منگیتر کے ہمراہ کراچی پہنچ گئی جس کے بعد معاملہ مزید الجھ گیا۔

پولیس حکام  کے مطابق  واقعہ اغوا ہی تھا یا لڑکی نے ڈرامہ رچایا ؟  پولیس اس حوالے سے تفتیش کررہی ہے۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ  فضا دختر سلیم کو منگیتر خود حیدرآباد سے کراچی لے کر آیا ہے۔

لڑکی کو کراچی لانے کے کافی دیر بعد پولیس کو اطلاع دی گئی جبکہ تمام معاملے سے پولیس کو لاعلم رکھا گیا۔

پولیس کے مطابق فرسٹ ایئر کی طالبہ کے اغوا کا مقدمہ بھائی نے جوہر آباد تھانے میں 19مئی کو  درج کرایا گیا تھا ۔ لڑکی نے اغوا ہونے کے بعد گھر والوں کو میسج کیا کہ اسے نامعلوم افراد اغوا کیا۔

لڑکی کے اہل خانہ کو بھیجے گئے پیغام کے مطابق اسکو ہائی روف میں موجود لوگوں نے اغوا کیا جس میں مزید لڑکیاں بھی موجود تھیں۔

پولیس کے مطابق اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ لڑکی نے بھائی سے رابطہ نہ ہونے کی صورت میں اپنے منگیتر سے رابطہ کیا اور حیدرآباد میں موجودگی کا بتایا ۔ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ سے رابطے کے بعد پولیس جب لڑکی کی بازیابی کے لیے حیدرآباد جانے لگے تو معلوم ہوا کہ وہ کراچی پہنچ چکی ہے۔

مبینہ طور پر اغوا ہونے والی لڑکی نے حیدراباد سے اپنے منگیتر کو فون رکشہ ڈرائیور کے نمبر سے کیا اور بتایا کہ میں اس مقام پر موجود ہوں۔

کراچی سے اغوا ہونے والی طالبہ حیدراباد میں کسی تھانے نہیں گئی بلکہ منگیتر ہی کے ساتھ واپس  اپنے گھر آ گئی۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اس حوالے سے تمام پہلووں  پر تفتیش کررہی ہے ۔تحقیقات میں لڑکی کے بیانات میں متعدد تضادات پائے گئے ہیں، جس کے باعث پولیس کو شک ہے کہ آیا یہ واقعی اغوا کا واقعہ تھا یا کوئی ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے جسے اغوا کا رنگ دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اغوا ہونے والی کے مطابق پولیس کو لڑکی نے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا