ہمارا دشمن ذہنی طور پر پست، کم ظرف اور گھٹیا ہے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
لاہور:
گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے کہ ڈیمج اتنا زیادہ ہے کہ گجرات کے قصائی اور اب انڈیا کے قصائی اس سے ہمیں کیا توقع ہوسکتی ہے، یہی توقع کر رہے تھے کہ اس محاذ پرشکست ہوئی ہے تو اس محاذ پر آئے گا وہ آنا شروع ہو گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجھے ایک چیز سمجھ نہیں آتی کوئی علیحدگی پسند ہو کوئی آزادی کی تحریک چلا رہا ہو وہ معصوم بچوں کو نشانہ بنا سکتا ہے؟
تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارا جو دشمن ہے وہ ذہنی طور پر پست ، کم ظرف اور گھٹیا ہے اور وہ اپنے ہر عمل میں یہ ثابت کرتا ہے، کوئی کریکٹر بھی ہوتا ہے، جنگوں کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔
تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں انڈیا کی اِنوولومنٹ کی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، این ڈی ایس اور را کا نیکسس ہی بلوچستان میں کام کر رہا ہے، ہم تمام ثبوت ہونے کے باوجود انڈیا کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب نہیں کر پائے، پہلگام واقعہ کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود پاکستان پر الزام لگایا گیا۔
تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ بات ہو رہی ہے ایگریسیو ڈپلومیسی کی اور کہ ہم ماضی میں کیوں نہیں کر سکے، دیکھیں ہم نے ڈوزیئر ہر جگہ پہنچائے، بڑا ہی اندوہناک واقعہ ہے جو آج خضدار میں ہوا، بچے شہید ہوئے۔
تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ خضدار میں جو واقعہ ہوا ہے اس پر جتنا افسوس کیا جائے اور جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، دنیا بھر میں اس پر افسوس کیا جا رہا ہے تو اس کے پیچھے بھارت ہی ہے، مودی نے اس بات کا خود اعتراف کیا کہ بلوچستان میں اس کی مداخلت ہے، ظاہر ہے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے تاہم پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلیے اتنے بچوںکی شہادتیں ، ان کے ساتھ دہشتگردی کرنا یہ کہا لکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تجزیہ کار نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔