اسلام میں نکاح کیلئے عمر کی کوئی شرط نہیں، بالغ ہونا کافی ہے، ابتسام الہٰی ظہیر
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ کا کہنا تھا کہ عاقل بالغ شخص کا نکاح کسی بھی عاقل بالغ لڑکی سے کیا جا سکتا ہے، بہت سے یورپین ممالک میں لڑکی کیلئے رضامندی کی عمر 14 برس ہے جن میں جرمنی جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے کہا کہ اسلام میں نکاح کیلئے عمر کی کوئی شرط نہیں بلکہ بالغ ہونا کافی ہے۔ چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے کہا کہ عاقل بالغ شخص کا نکاح کسی بھی عاقل بالغ لڑکی سے کیا جا سکتا ہے، بہت سے یورپین ممالک میں لڑکی کیلئے رضامندی کی عمر 14 برس ہے جن میں جرمنی جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یورپ کے 7 ممالک میں عمرکی حد 14 سال ہے تو پاکستان میں 16 سے بڑھا کر 18 کیوں کی گئی ہے۔؟ 18 سال سے کم عمر نکاح میں چائلڈ پروٹیکشن کا ایشو نہیں بلکہ بے راہ روی کے پھیلاؤ کے مغربی ایجنڈے کو عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عاقل بالغ
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔