شامی جوڑے کے ہاں بیٹے کی پیدائش، بچے نام ’ٹرمپ‘ رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
شامی جوڑے کے ہاں بیٹے کی پیدائش، بچے نام ’ٹرمپ‘ رکھ دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 May, 2025 سب نیوز
دمشق: شام میں پیدا ہونے والے ایک بچے کا نام والدین نے امریکی صدر کے نام پر ٹرمپ رکھ دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بعد شام کے صوبے حمص سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے اپنے نومولود بیٹے کا نام ’ٹرمپ احمد السطوف‘ رکھا ہے۔
نومولد کے والد کا کہنا ہے کہ ہم نے بہت لمبے عرصے تک تکلیفیں برداشت کی ہیں، اب امریکی صدر کی جانب سے شام پر عائد پابندیوں میں نرمی شاید اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں چیزیں بدل جائیں گی۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران شام پر کئی سال سے عائد پابندیاں ختم کرنے کا حکم دیا تھا اور شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات بھی کی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربجٹ مذاکرات جاری؛ عوام کو ریلیف دینے کیلیے متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش شادی کے نام پر لوٹ مار،سات ماہ میں 25شوہر بدلنے والی دلہن گرفتار مفتی قوی کو لال مسجد سے نکال دیا گیا ، تفصیلات ، ویڈیو سب نیوز پر ۔۔۔۔۔ عجائب گھر کا تین پہلوؤں میں قیمتی کردار میرے لیے تیل کا صرف ایک قطرہ، ٹرمپ کا ابوظہبی میں اماراتی میزبانوں سے شکوہ بھارت، شوہر سے داڑھی پر اختلاف، خاتون دیور کے ساتھ بھاگ گئی مجھے پوپ بنایا جائے ، ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔