عمران خان نے احتجاجی تحریک کے لیے مجھے دوبارہ ذمہ داری دے دی ہے، وزیراعلی کے پی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
عمران خان نے احتجاجی تحریک کے لیے مجھے دوبارہ ذمہ داری دے دی ہے، وزیراعلی کے پی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 May, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو بانی پی ٹی آئی تیار ہیں، ہماری جنگ جاری ہے ہم ہر صورت میں اپنے بانی کو رہا کرائیں گے، بانی پی ٹی ںے احتجاجی تحریک کے لیے مجھے دوبارہ ذمہ داری دے دی ہے۔یہ بات انہوں نے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مجھے دو ماہ کے بعد ملاقات کرنے کا موقع دیا گیا ہے حالاں کہ کورٹ کا آرڈر موجود ہے، عمران خان سے احتجاجی تحریک اور بجٹ کے معاملے پر بات ہوئی میں نے خیبرپختونخوا کے بجٹ کے معاملے میں عمران خان کو بریف کیا، میرا لیڈر مجھے ہدایات دے گا تو میں آگے عمل درآمد کراوں گا جبکہ بجٹ بھی آرہا ہے اگر یہ میری ملاقات نہیں کراتے تو ہم آئی ایم ایف سے شرائط کے معاملات میں حکومت کے ساتھ ہرگز نہیں بیٹھیں گے، یہ واحد صوبہ ہے جس نے آئی ایم ایف کے تمام اہداف پورے کیے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بتائے گئے لوگوں سے ملاقات ہونی چاہیے، ہماری تحریک جاری رہے گی، عمران خان نے کہا ہے کہ اندھیرا جب زیادہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے سویرا ہونے والا ہے، ڈنڈے کے زور پر ریاست نہیں چلاسکتے، اگر پاکستان کی سوچ نہیں ہے تو ہمارے لیڈر اور ہمیں پاکستان کی سوچ ہے، ہم جلد خان کو رہا کرائیں گے،ملک میں آئین کی بالادستی ہونی چاہیے، ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا اس کی واپسی ہماری نہیں ملک کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق تقاضے پورے کیے جائیں جس کا جو کام ہے وہ اپنا کام کرے، عمران خان جب کوئی بات کہہ دیں تو وہی بیان پارٹی کا اور ہمارا بیان ہے ہم اس بیان کی تصدیق کرتے ہیں اور اسی پر عمل کرنے کے پابند ہیں، عدالت میں لگے ہمارے کیسز سنے جائیں، عمران خان پر بنائے گئے مقدمات جھوٹے ہیں انہیں سنا جائے کیسز عدالتوں میں لگائے جائیں اور عمران خان کو بری کیا جائے۔
انہوں ںے کہا کہ مائیک اٹھا کر لوگوں پر تنقید کرنا آسان اور کام کرنا بہت مشکل ہے ہم سے پوچھیں، ہم نے احتجاج کیے مگر ہمیں روکا گیا اور آخر میں ہمیں گولیاں ماری گئیں، ہمارا مقصد اپنے کارکنوں کو شہید کرانا نہیں ہے ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ وزیراعلی کے پی نے کہا کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو بانی پی ٹی آئی تیار ہیں، ہماری بات چیت اور ڈیمانڈ آئین کے لیے ہے، ہماری جنگ جاری ہے ہم ہر صورت میں اپنے بانی کو رہا کرائیں گے، بانی پی ٹی آئی ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں ںے احتجاجی تحریک کے لیے مجھے دوبارہ ذمہ داری دے دی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایک پُرامن قوم، ایک زوردار انتباہ ہمارا جواب منہ توڑ، مودی سرکار پاکستان پر دوبارہ حملے کے لیے سو بار سوچے گی، وزیراعظم چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس ،پبلک لائبریری کے قیام پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات، جاری اصلاحات پر اطمینان کا اظہار بانی پی ٹی آئی پولی گرافک ٹیسٹ کرنے والی ٹیم سے چھپ رہے ہیں، عظمی بخاری میرے خلاف سیاسی سطح پر جاری مہم محض ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے، چیئرمین پی ٹی اے کی وضاحت برطانوی سفارتی اہلکار کی اڈیالہ جیل آمد، اسیر شہری علی حسن سے ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعلی کے پی بانی پی ٹی آئی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔