Express News:
2026-06-03@05:21:48 GMT

دہشت گردی اور اس کا خاتمہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

دہشت گرد کس قدر ظالم اور درندے ہوتے ہیں ‘اس کا ثبوت تو وہ متعدد بار اپنے عمل سے دے چکے ہیں‘ اگلے روز دہشت گردوں نے بلوچستان کے ڈسٹرکٹ خضدار میں اسکول بس پرحملہ کر کے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ دین و مذہب کے ہی باغی نہیں ہیں بلکہ ان کا انسانیت سے بھی دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ڈسٹرکٹ خضدار میں دہشت گردوں کے حملے میں 3معصوم بچے اور 2جوان شہیدہوئے ہیں جب کہ 39بچوں سمیت 53افراد زخمی ہو گئے۔زخمیوں میں سے8کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کی یہ واردات کوئٹہ کراچی ہائی وے پر زیروپوائنٹ خضدار پر پیش آئی ہے۔ جو بچے شہید ہوئے ہیں وہ اسکول کی طالبات ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور جیسے سانحے کی پلاننگ کر رکھی تھی لیکن ان کا یہ منصوبہ قدرت نے ناکام بنا دیا۔

صدرمملکت آصف زرداری ‘وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر و دیگر نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور بھارتی ایما پر ہونے والی دہشت گردی کو کچلنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دہشت گردی کی اس واردات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ، وزیرِ اطلاعات اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور انھوں نے زخمی بچوں اور دیگر متاثرین کی عیادت کی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور کمانڈر کوئٹہ کور نے واقعے پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی اس سفاکانہ کارروائی سے نہ صرف دہشت گردی کی اصل تصویر دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئی ہے بلکہ یہ حملہ اخلاقی اقدار اور انسانیت کے خلاف کھلی بغاوت ہے،ایسے گروہ جو نسلی بنیادوں کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی کر رہے ہیں، نہ صرف بھارت کے ریاستی مقاصد کے آلہ کار ہیں بلکہ بلوچ اور پشتون عوام کی روایتی غیرت، امن پسندی اور اقدار کی بھی توہین کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کو نشانہ بنانے جیسے غیر انسانی فعل کی شدید مذمت کرے اور بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو بطور خارجہ پالیسی استعمال کرنے کے رجحان کا نوٹس لے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بربریت میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، وزیراعظم نے اسکول بس پر بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے اسکول بس پر حملہ کر کے درندگی کی تمام حدیں پار کردی ہیں، انھیں انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

انھوں نے واقعہ کے ذمے داران کا فوری کھوج لگانے اور قرار واقعی سزا دلانے کی ہدایت کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد میدان جنگ میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں گھناؤنی اور بزدلانہ کارروائیاںکررہے ہیں، دہشت گردی اور بدامنی پھیلائی جارہی ہے، دہشت گردوں نے خضدار میں اسکول جانے والے معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا، آپریشن بنیان مرصوص میں ناکامی اور فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں بری طرح شکست کھانے کے بعد بھارتی دہشت گرد پراکسیز پاکستان میں معصوم بچوں اور شہریوں جیسے آسان اہداف کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں نشانہ بنارہی ہیں، بھارتی حکومت کی طرف سے ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کا استعمال نفرت انگیز، اخلاقی پستی اور بنیادی انسانی اصولوں کو نظر انداز کرنے کی واضح مثال ہے۔ ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس بزدلانہ بھارتی اسپانسرڈ حملے کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور ذمے داروں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔

بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں نئی نہیں ہیں بلکہ یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گرد عناصر تواتر کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کا ہدف کیا ہے ‘اس حوالے سے بھی بات کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ حقائق سے پاکستان کے پالیسی ساز بخوبی آگاہ ہیں۔

پاکستان کی شمال مغربی سرحد کی نزاکت اور کمزوری( Vulnerability) سے بھی پاکستان کے پالیسی ساز لا علم نہیں ہیں۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ پاکستان کے جس قسم کے تعلقات چلے آ رہے ہیں ‘ اس کے بارے میں بھی سب کو پتہ ہے اور اس کا بھی پتہ ہے کہ بھارتی سپانسرڈ پاکستانی گروپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہی نہیں بلکہ دیگر صوبوں میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنا کچھ پتہ ہونے کے باوجود اور حقائق آشکار ہو جانے کے باوجود ‘پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے سہولت کار ‘ہینڈلرز‘ فنانسرزاور کیرئیرزکیسے موجود ہیں بلکہ پوری طرح متحرک ہیں۔

پاکستان میں اسکول کے بچوں پر پہلے بھی دہشت گرد حملہ آور ہو چکے ہیں ‘دہشت گردوں کی ذہنی ساخت اور ان کی تربیت اور ان کے زیر استعمال اسلحہ کی کوالٹی بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔سانحہ پشاور میں جوکچھ ہوا وہ قوم اب تک نہیں بھولی ہے۔ صدر مملکت اور وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کی تشویش اور مذمت اپنی جگہ درست ہے اور ان کے منصب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں قوم کی ڈھارس بندھائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لیے غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نیشنل ایکشن پلان ہو یا ٹیررازم کے خاتمے کے لیے دیگر معاملات ہوں ‘یہ سب کچھ کاغذوں اور کمپیوٹر کی اسکرینوں پر بریفنگز کے دوران دکھانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے عوام اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان کی لوئر کلاس سے لے کر مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس تک اپنی بساط کے مطابق پورا انکم ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی جتنے ٹیکسز عائد کیے جاتے ہیں پاکستان کی مڈل کلاس ہی یہ ٹیکس ادا کر رہی ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاملات کر رہا ہے اور آئی ایم ایف پاکستان کو جو قرضہ دے رہا ہے ‘ وہ بھی پاکستان کے عوام کے ’’ بی ہاف ‘‘پر دے رہا ہے۔سعودی عرب‘قطر اور یو اے ای بھی جو قرضہ دیتے ہیں ‘اس کی ادائیگی بھی پاکستان کے عوام کی ملکیت قومی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ہی ہوتی ہے۔ اس سب روداد کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ پاکستان کے عوام اگر ٹیکس دیتے ہیں تو ان کی جان اور مال کا تحفظ کرنا ریاست ‘ ریاستی اداروں اور پارلیمنٹیرینزکی پہلی اور آخری ذمے داری ہے۔

بھارت کے ساتھ جنگ ہو یا افغانستان کے معاملات ہوں ‘ان سے عہدہ برا ہونے کے لیے بھی عوام کا مینڈیٹ حکومت اور ریاست کے پاس ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس کا کوئی مخالف یا دشمن نہیں ہے۔ امریکا کو بھی مختلف ملکوں سے خطرہ ہے۔ روس کو بھی مختلف ملکوں سے خطرہ ہے۔ سعودی عرب کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ دوسرے ملکوں سے خطرہ اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا ملک کے اندر پھیلے ہوئے ناسوروں سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں۔ پاکستان میں انتہا پسندی کے کلچر نے سوال کرنے اور ریشنل سوچ کے اظہار کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ پاکستان کے سٹیک ہولڈرز کو اپنے ملک کے اندر موجود ایسے طاقتور لوگوں کو مارجنلائزکرنا پڑے گا۔

پاکستان کے نظام کے اندر موجود نقائص پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔ یہ کام اس ملک کے پارلیمنٹیرینز کی ذمے داری ہے کیونکہ قانون سازی کرنا ان کا کام اور بنیادی ذمے داری ہے۔ پاکستان کے عوام نے انھیں یہی مینڈیٹ دیا ہے۔ پارلیمنٹیرینز پاکستان کے تعلیمی نظام اور نصاب میں تبدیلیاںلانے کے لیے قانون سازی کریں۔ سیاسی قیادت انتہا پسندی کے حوالے سے ڈھلمل سوچ کا شکار ہے۔ پاکستا ن کی سیاسی قیادت کے خیال میں یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن ضیاء الحق کے دور میں تعلیمی نظام اور نصاب میں جو تبدیلیاں کی گئیں ‘وقت آ گیا ہے کہ انھیں تبدیل کیا جائے۔

دہشت گردی کا خاتمہ ایک دن میں ممکن نہیں ہے۔ انتظامی اور عسکری انتظامات کے ساتھ ساتھ آئینی اور قانونی اصلاحات بھی انتہائی ضروری ہو چکی ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ کرنا نا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے درست راستے کا انتخاب کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی شمال مغربی سرحدوں کو فول پروف بنانا انتہائی ضروری ہے۔ ماضی کی 70برس کی پالیسی کو تبدیل کیے بغیر پاکستان میں امن کی راہ تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ دہشت گردوں کی ہمدردی کو ختم کرنے کے لیے بھی نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں تبدیلی لانا لازمی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے عوام دہشت گردی کی پاکستان میں پاکستان کی کرنے والے کا خاتمہ ہیں بلکہ کے مطابق کے ساتھ کے اندر رہے ہیں نہیں ہے ہے اور اور ان کے لیے

پڑھیں:

نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 

گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن  جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔ 

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔

جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ

یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ  کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ