Express News:
2026-06-03@06:29:05 GMT

دہشت گردی اور اس کا خاتمہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

دہشت گرد کس قدر ظالم اور درندے ہوتے ہیں ‘اس کا ثبوت تو وہ متعدد بار اپنے عمل سے دے چکے ہیں‘ اگلے روز دہشت گردوں نے بلوچستان کے ڈسٹرکٹ خضدار میں اسکول بس پرحملہ کر کے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ دین و مذہب کے ہی باغی نہیں ہیں بلکہ ان کا انسانیت سے بھی دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ڈسٹرکٹ خضدار میں دہشت گردوں کے حملے میں 3معصوم بچے اور 2جوان شہیدہوئے ہیں جب کہ 39بچوں سمیت 53افراد زخمی ہو گئے۔زخمیوں میں سے8کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کی یہ واردات کوئٹہ کراچی ہائی وے پر زیروپوائنٹ خضدار پر پیش آئی ہے۔ جو بچے شہید ہوئے ہیں وہ اسکول کی طالبات ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور جیسے سانحے کی پلاننگ کر رکھی تھی لیکن ان کا یہ منصوبہ قدرت نے ناکام بنا دیا۔

صدرمملکت آصف زرداری ‘وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر و دیگر نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور بھارتی ایما پر ہونے والی دہشت گردی کو کچلنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دہشت گردی کی اس واردات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ، وزیرِ اطلاعات اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور انھوں نے زخمی بچوں اور دیگر متاثرین کی عیادت کی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور کمانڈر کوئٹہ کور نے واقعے پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی اس سفاکانہ کارروائی سے نہ صرف دہشت گردی کی اصل تصویر دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئی ہے بلکہ یہ حملہ اخلاقی اقدار اور انسانیت کے خلاف کھلی بغاوت ہے،ایسے گروہ جو نسلی بنیادوں کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی کر رہے ہیں، نہ صرف بھارت کے ریاستی مقاصد کے آلہ کار ہیں بلکہ بلوچ اور پشتون عوام کی روایتی غیرت، امن پسندی اور اقدار کی بھی توہین کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کو نشانہ بنانے جیسے غیر انسانی فعل کی شدید مذمت کرے اور بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو بطور خارجہ پالیسی استعمال کرنے کے رجحان کا نوٹس لے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بربریت میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، وزیراعظم نے اسکول بس پر بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے اسکول بس پر حملہ کر کے درندگی کی تمام حدیں پار کردی ہیں، انھیں انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

انھوں نے واقعہ کے ذمے داران کا فوری کھوج لگانے اور قرار واقعی سزا دلانے کی ہدایت کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد میدان جنگ میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں گھناؤنی اور بزدلانہ کارروائیاںکررہے ہیں، دہشت گردی اور بدامنی پھیلائی جارہی ہے، دہشت گردوں نے خضدار میں اسکول جانے والے معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا، آپریشن بنیان مرصوص میں ناکامی اور فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں بری طرح شکست کھانے کے بعد بھارتی دہشت گرد پراکسیز پاکستان میں معصوم بچوں اور شہریوں جیسے آسان اہداف کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں نشانہ بنارہی ہیں، بھارتی حکومت کی طرف سے ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کا استعمال نفرت انگیز، اخلاقی پستی اور بنیادی انسانی اصولوں کو نظر انداز کرنے کی واضح مثال ہے۔ ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس بزدلانہ بھارتی اسپانسرڈ حملے کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور ذمے داروں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔

بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں نئی نہیں ہیں بلکہ یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گرد عناصر تواتر کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کا ہدف کیا ہے ‘اس حوالے سے بھی بات کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ حقائق سے پاکستان کے پالیسی ساز بخوبی آگاہ ہیں۔

پاکستان کی شمال مغربی سرحد کی نزاکت اور کمزوری( Vulnerability) سے بھی پاکستان کے پالیسی ساز لا علم نہیں ہیں۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ پاکستان کے جس قسم کے تعلقات چلے آ رہے ہیں ‘ اس کے بارے میں بھی سب کو پتہ ہے اور اس کا بھی پتہ ہے کہ بھارتی سپانسرڈ پاکستانی گروپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہی نہیں بلکہ دیگر صوبوں میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنا کچھ پتہ ہونے کے باوجود اور حقائق آشکار ہو جانے کے باوجود ‘پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے سہولت کار ‘ہینڈلرز‘ فنانسرزاور کیرئیرزکیسے موجود ہیں بلکہ پوری طرح متحرک ہیں۔

پاکستان میں اسکول کے بچوں پر پہلے بھی دہشت گرد حملہ آور ہو چکے ہیں ‘دہشت گردوں کی ذہنی ساخت اور ان کی تربیت اور ان کے زیر استعمال اسلحہ کی کوالٹی بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔سانحہ پشاور میں جوکچھ ہوا وہ قوم اب تک نہیں بھولی ہے۔ صدر مملکت اور وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کی تشویش اور مذمت اپنی جگہ درست ہے اور ان کے منصب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں قوم کی ڈھارس بندھائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لیے غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نیشنل ایکشن پلان ہو یا ٹیررازم کے خاتمے کے لیے دیگر معاملات ہوں ‘یہ سب کچھ کاغذوں اور کمپیوٹر کی اسکرینوں پر بریفنگز کے دوران دکھانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے عوام اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان کی لوئر کلاس سے لے کر مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس تک اپنی بساط کے مطابق پورا انکم ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی جتنے ٹیکسز عائد کیے جاتے ہیں پاکستان کی مڈل کلاس ہی یہ ٹیکس ادا کر رہی ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاملات کر رہا ہے اور آئی ایم ایف پاکستان کو جو قرضہ دے رہا ہے ‘ وہ بھی پاکستان کے عوام کے ’’ بی ہاف ‘‘پر دے رہا ہے۔سعودی عرب‘قطر اور یو اے ای بھی جو قرضہ دیتے ہیں ‘اس کی ادائیگی بھی پاکستان کے عوام کی ملکیت قومی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ہی ہوتی ہے۔ اس سب روداد کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ پاکستان کے عوام اگر ٹیکس دیتے ہیں تو ان کی جان اور مال کا تحفظ کرنا ریاست ‘ ریاستی اداروں اور پارلیمنٹیرینزکی پہلی اور آخری ذمے داری ہے۔

بھارت کے ساتھ جنگ ہو یا افغانستان کے معاملات ہوں ‘ان سے عہدہ برا ہونے کے لیے بھی عوام کا مینڈیٹ حکومت اور ریاست کے پاس ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس کا کوئی مخالف یا دشمن نہیں ہے۔ امریکا کو بھی مختلف ملکوں سے خطرہ ہے۔ روس کو بھی مختلف ملکوں سے خطرہ ہے۔ سعودی عرب کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ دوسرے ملکوں سے خطرہ اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا ملک کے اندر پھیلے ہوئے ناسوروں سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں۔ پاکستان میں انتہا پسندی کے کلچر نے سوال کرنے اور ریشنل سوچ کے اظہار کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ پاکستان کے سٹیک ہولڈرز کو اپنے ملک کے اندر موجود ایسے طاقتور لوگوں کو مارجنلائزکرنا پڑے گا۔

پاکستان کے نظام کے اندر موجود نقائص پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔ یہ کام اس ملک کے پارلیمنٹیرینز کی ذمے داری ہے کیونکہ قانون سازی کرنا ان کا کام اور بنیادی ذمے داری ہے۔ پاکستان کے عوام نے انھیں یہی مینڈیٹ دیا ہے۔ پارلیمنٹیرینز پاکستان کے تعلیمی نظام اور نصاب میں تبدیلیاںلانے کے لیے قانون سازی کریں۔ سیاسی قیادت انتہا پسندی کے حوالے سے ڈھلمل سوچ کا شکار ہے۔ پاکستا ن کی سیاسی قیادت کے خیال میں یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن ضیاء الحق کے دور میں تعلیمی نظام اور نصاب میں جو تبدیلیاں کی گئیں ‘وقت آ گیا ہے کہ انھیں تبدیل کیا جائے۔

دہشت گردی کا خاتمہ ایک دن میں ممکن نہیں ہے۔ انتظامی اور عسکری انتظامات کے ساتھ ساتھ آئینی اور قانونی اصلاحات بھی انتہائی ضروری ہو چکی ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ کرنا نا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے درست راستے کا انتخاب کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی شمال مغربی سرحدوں کو فول پروف بنانا انتہائی ضروری ہے۔ ماضی کی 70برس کی پالیسی کو تبدیل کیے بغیر پاکستان میں امن کی راہ تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ دہشت گردوں کی ہمدردی کو ختم کرنے کے لیے بھی نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں تبدیلی لانا لازمی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے عوام دہشت گردی کی پاکستان میں پاکستان کی کرنے والے کا خاتمہ ہیں بلکہ کے مطابق کے ساتھ کے اندر رہے ہیں نہیں ہے ہے اور اور ان کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ