سلفیت کے مغرب میں واقع بروقین نامی فلسطینی قصبے پر قابض اسرائیلی آبادکاروں نے دھاوا بولتے ہوئے متعدد فلسطینی گھروں و گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا اور وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ کی کارروائیاں کیں جنکے باعث 8 فلسطینی شہری جھلس کر زخمی ہو گئے ہیں! اسلام ٹائمز۔ مقامی میڈیا کے مطابق گذشتہ رات گئے قابض اسرائیلی آبادکاروں کے ایک بڑے گروہ نے مغربی کنارے کے شمالی قصبے بروقین پر دھاوا بول دیا اور متعدد رہائشی عمارتوں اور کاروں کو آگ لگا دی۔ اس بارے فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس حملے میں 8 فلسطینی شہری جھلس گئے ہیں جنہیں امدادی ٹیموں نے ابتدائی طبی امداد پہنچائی ہے۔ ادھر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں بھی بروقین کے مختلف حصوں میں آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
  ۔
  فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق، یہ حملہ عین اس وقت ہوا جب قابض اسرائیلی فوج نے آج دوسری مرتبہ اس قصبے میں داخل ہو کر تمام راستے بند کر دیئے اور کئی ایک فلسطینی گھروں میں گھس کر تلاشی لی۔ اس بارے بروقین کے میئر فائید صبرہ نے بھی الجزیرہ کو بتایا ہے کہ اس حملے کے بعد قصبے کے مکین خوف و ہراس کی کیفیت میں ہیں جبکہ قابض اسرائیلی فوج نے حملہ آور غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کی کھل کر حمایت کی اور ان حملوں میں سہولت فراہم کرنے کے لئے بروقین پر دو مرتبہ چھاپے بھی مارے ہیں۔
  ۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے بروقین اور کفر الدیک کی فلسطینی بستیوں کو ''غیرقانونی اسرائیلی آبادکار کو  گولی مار کر ہلاک کرنے والے'' مبینہ فلسطینی مزاحمتکار کی تلاش کے بہانے سے گذشتہ ہفتے سے محاصرے میں لے رکھا ہے جبکہ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس دوران غاصب اسرائیلی فورسز نے کئی ایک فلسطینی گھروں کو ضبط کر کے انہیں فیلڈ تفتیشی مراکز میں بھی بدل رکھا ہے۔
۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قابض اسرائیلی

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان