اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے تنخواہ دار طبقے، جائیداد، مشروبات اور برآمدی شعبے کو خاطر خواہ ریلیف دینے سے پس و پیش کے بعد، دورے پر آئی ہوئی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ٹیم کے جاری مذاکرات کا نچوڑ یہ ہےکہ آئی ایم ایف نے وفاقی محاصل ادارے کے ٹیکس وصولی کے ہدف کو حکومتی اخراجات میں کمی سے مشروط کر دیا ہے۔ 

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ٹیم جمعہ (آج) کو اپنا دورہ مکمل کرے گی۔ صرف دفاعی بجٹ کو استثنیٰ حاصل ہوگا، کیونکہ اسلام آباد نے موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اس میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ 

نیوکلیئر سکیورٹی سسٹم کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے حوالے سے پر اعتماد ہیں: پاکستان

وزیر اعظم اور ان کی ٹیم نے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے خطے کے ڈائریکٹر، جہاد ازعور، کی سربراہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے وفد سے ملاقات کی۔ 

پاکستان نے کھاد پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کو 5 سے 10 فیصد تک بڑھانے اور کیڑے مار ادویات پر 5 فیصد نیا ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کو مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی اس درخواست پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جزوی طور پر رضا مند ہو نے کی توقع ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہوگا کیونکہ سرکاری ملازمین کی تعداد میں کمی کی مہم اب ماند پڑ چکی ہے، اور تنخواہوں میں کمی کے باعث بجٹ میں کوئی خاص بچت نہیں ہو گی۔

میانوالی میں بڑے پیمانے پر دہشتگردی کی کوشش ناکام، 3 دہشتگرد ہلاک

ذرائع کا کہنا ہے: "ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ بجٹ تخمینوں کا حتمی حساب کتاب کیسے ہو گا ۔" حکومت دو جون کو پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرے گی، جس کے بعد بھی ورچوئل مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ 

مالیاتی بل 2025 کو قانون بننے سے پہلے تمام شرائط بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ہم آہنگ کی جائیں گی تاکہ بجٹ کی منظوری کے دوران تنقید کم ہو تاہم ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ بجٹ میں محاصل ہی آئندہ چند برسوں کے لیے معیشت کا رخ طے کریں گے کیونکہ حکومت آخری کوششوں میں مصروف ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو تنخواہ دار طبقے کے لیے آمدنی کے ٹیکس کی شرحوں میں نرمی پر راضی کیا جا سکے۔

پاکستان، بھارت میں دیرینہ مسائل کی وجہ سے خطے میں دہشتگردی ہورہی ہے: امریکا

وفاقی محاصل ادارے کا ٹیکس ہدف آئندہ بجٹ میں 14 اعشاریہ ایک کھرب روپے سے زائد رکھا جائے گا، بشرطیکہ وزارتِ خزانہ اپنے اخراجات میں متناسب کمی کر سکے۔

دفاعی بجٹ اس بجٹ میں واحد استثنا ہو گا، جسے ملکی ضروریات کے مطابق بڑھایا جائے گا۔ ایک اور موقع اخراجات میں کمی کے لیے موجود ہے، جو قرضوں کی ادائیگی میں کمی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 

وزارتِ خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اس مد میں 8 اعشاریہ 7 کھرب روپے کا تخمینہ دیا ہے لیکن یہ تخمینہ کم کر کے 8 سے 8 اعشاریہ 2 کھرب روپے تک لایا جا سکتا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے صوبوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کم کریں اور محصولات میں زائد آمدن پیدا کریں تاکہ مجموعی قومی خسارہ محدود رکھا جا سکے۔

ٹرمپ انتظامی نے ہارورڈ یونیورسٹی کو نئے بین الاقوامی طلباء کے اندراج سے روک دیا

ایک اور سرکاری اہلکار نے بتایا کہ حکومت نے موجودہ مالی سال (جون دو ہزار پچیس تک) کے اندر ایک ارب امریکی ڈالر کی تجارتی مالی معاونت کا انتظام کیا ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اخراجات میں

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری