’’چیٹ جی پی ٹی نے بچا لیے ڈھائی لاکھ روپے!‘‘ صارف کا دعویٰ، انٹرنیٹ حیران
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اگر آپ کا مہنگا سفر ضائع ہونے کے قریب ہو اور آپ کا کوئی مددگار نہ ہو، تو کیا کریں گے؟ ایک ذہین ریڈٹ صارف نے کہا: ’’چیٹ جی پی ٹی سے مدد مانگو!‘‘ اور پھر… پیسے بھی واپس لے آئے!
جی ہاں، ایک ریڈٹ صارف کا دعویٰ ہے کہ اس نے چیٹ جی پی ٹی-4 کی مدد سے ایک ناقابلِ واپسی سفر کے تقریباً ڈھائی لاکھ روپے (یعنی 2,500 ڈالر) واپس حاصل کر لیے! اور اب سوشل میڈیا پر یہی کہانی واٹس ایپ یونیورسٹی کے بعد اگلا وائرل مضمون بن چکی ہے۔
ریڈٹ پر "Never take no for an answer" کے عنوان سے کی گئی پوسٹ میں اس صارف نے بتایا کہ اس نے کولمبیا کے شہر میڈیجن کا ہوٹل اور فلائٹ کا پیکیج Expedia کے ذریعے بک کروایا تھا، لیکن عین وقت پر اسے ایک ذہنی مرض (جنرلائزڈ اینزائٹی ڈس آرڈر) کی وجہ سے سفر منسوخ کرنا پڑا۔
مگر یہاں آ کر قسمت نے دغا دیا:
نہ ہوٹل کی جانب سے واپسی
نہ ایئرلائن کی طرف سے ہمدردی
اور نہ ہی سفر کا بیمہ!
ایسے میں موصوف نے چیٹ جی پی ٹی سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر کا نوٹ حاصل کیا اور پھر چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ایک دل کو چھو لینے والا خط تیار کیا۔ یہ خط Expedia اور ہوٹل کو بھیجا گیا۔
نتیجہ؟ ہوٹل والوں کا دل پگھل گیا اور انہوں نے مکمل رقم واپس کر دی۔
ایئرلائن نے شروع میں انکار کردیا کیونکہ ان کے قوانین کے مطابق صرف موت یا لاعلاج مرض پر ریفنڈ ممکن تھا (جیسے کہ انسانی جذبات بیماری نہیں ہوتے؟)۔ لیکن پھر چیٹ جی پی ٹی نے دوسرا خط تیار کیا جس میں ذہنی صحت کی سنگینی کو اجاگر کیا گیا۔
اور پھر… کمال ہو گیا!
صرف ایک گھنٹے کے اندر ایئرلائن نے بھی ریفنڈ منظور کر لیا۔
reddit.com/r/ChatGPT/comments/1kquhfr/never_take_no_for_an_answer/?utm_source=share&utm_medium=mweb3x&utm_name=post_embed&utm_term=1&utm_content=1
صارف نے لکھا،
’’اگر چیٹ جی پی ٹی نہ ہوتا، تو شاید مجھے قانونی معاون (پیرالیگل) رکھنا پڑتا۔ اس نے مجھے 2,500 ڈالر کے نقصان سے بچا لیا۔‘‘
یہ کہانی اتنی مقبول ہوئی کہ ریڈٹ اور ٹوئٹر پر لوگوں نے دل کھول کر تعریف کی:
’’یہ تو مستقبل کی وکالت ہے!‘‘
’’ایسا وکیل ہو تو بندہ عدالت جانے سے پہلے چیٹ جی پی ٹی سے ہی مشورہ کر لے!‘‘
لیکن ہر کہانی کے ساتھ کچھ شک کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ کچھ نے ثبوت مانگ لیے: ’’پیسے واپس ملے؟ اسکرین شاٹس دکھاؤ بھائی!‘‘
کچھ نے اس بات پر اخلاقی بحث چھیڑ دی کہ اگر ذہنی بیماری کا استعمال صرف ریفنڈ کے لیے کیا جائے تو یہ کہاں تک درست ہے؟
ایک صارف نے لکھا: ’’اصل نکتہ یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی ایسے لوگوں کے لیے طاقت بن سکتا ہے جو خود اپنا مؤقف مضبوطی سے پیش نہیں کر پاتے۔ ہاں، اگر جھوٹ بولا گیا ہو تو وہ الگ بات ہے۔‘‘
تو جناب، اب آپ کو بھی اگر کہیں سے پیسے واپس لینے ہوں، دلائل ختم ہو چکے ہوں، اور امید دم توڑ چکی ہو… تو یاد رکھیے: ’’چیٹ جی پی ٹی سے نہ کہنا، وہ ’نہیں‘ کو ’ہاں‘ میں بدل سکتا ہے!‘‘
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی سے
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں