آنے والے بجٹ کو عوام اور مزدور دوست بنایا جائے، سلیم عباس صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
ایمپلائز ونگ کی مرکزی کونسل کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں کم قیمت ہونے کا فائدہ عام عوام کو پہنچایا جائے، پٹرول کی قیمت کم ہونے پر بجلی کے ریٹ کم کیے جائیں جو نئے ظالمانہ اور غیر منصفانہ پنشن رول بنائے گئے ہیں وہ واپس لیے جائیں، تنخواہوں اور پنشن میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ وحدت ایمپلائز ونگ کے مرکزی صدر سلیم عباس صدیقی نے کہا کہ وحدت ایمپلائزونگ حکومت کی طرف سے بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے، بجٹ سے پہلے پری بجٹ تنخواہ دار طبقے پر ظلم ہے، حکومت اس فیصلے کو واپس لے، وہ مرکزی کونسل کے پہلے آن لائن اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں عبداللہ بلوچ، اسداللہ چیمہ، سید وسیم زیدی، راجہ علمدار کیانی، سید حسن عباس جعفری اور مظہر صادق شریک ہوئے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ آنے والے بجٹ کو عوام اور مزدور دوست بنایا جائے، پٹرول کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں کم قیمت ہونے کا فائدہ عام عوام کو پہنچایا جائے، پٹرول کی قیمت کم ہونے پر بجلی کے ریٹ کم کیے جائیں جو نئے ظالمانہ اور غیرمنصفانہ پنشن رول بنائے گئے ہیں وہ واپس لیے جائیں، تنخواہوں اور پنشن میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے، قانون کے مطابق پچھلے تمام ایڈہاک الائونسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جائے، مہنگائی کے تناسب سے ڈیلی ویجز اور لم سم تنخواہ لینے والوں کے ویجز میں اضافہ کیا جائے، اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لیا جائے، اداروں کو منافع بخش بنانے کے لیے سیاسی مداخلت بند کرائی جائے، کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز سٹاف کو مستقل کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پٹرول کی قیمت کیا جائے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔