برطانیہ میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
برطانیہ میں درجہ حرارت بڑھنے کیساتھ جہاں گرمی کی لہر شدت اختیار کر رہی ہے وہیں ماحولیاتی ایجنسی کی طرف سے بارشیں نہ ہونے کی شکل میں خشک سالی کا خطرہ سر اٹھا سکتا ہے ۔
مئی کے دوران گرمی کی لہر میں تیزی آئی جبکہ یکم مئی کو درجہ حرارت 29.3سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔
ماحولیاتی ایجنسی نے خبردار کیا ہے اگر قابل ذکر بارشیں نہ ہوں تو خشک سالی کے درمیانے خطرے میں ہوں گے۔
ایک پیش گوئی کے مطابق ہفتے کے اختتام تک موسمی تبدیلی متوقع ہے‘ کم دباؤ بحراوقیانوس سے داخل ہوتا ہے جس سے بارش کا ضروری سلسلہ شروع ہو سکتا ہے مغربی علاقوں میں ہلکی بارشیں ہو سکتی ہیں۔
شمالی مغربی سکاٹ لینڈ میں تیز ہواؤں کے ساتھ درجہ حرارت 20 سینٹی گریڈ تک گرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ شمال اور مغرب میں 45 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے تیز ہوائیں درجہ حرارت میں کمی کا سبب بنیں گی۔ممکنہ طور پر یہاں 22 سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت ہو سکتا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔