نئی دہلی: بھارت میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے مرکزی رہنما راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی سے تین اہم سوالات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بھارتی مفادات کو ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے قربان کر دیا اور بھارت کی عزت کا سودا کیا۔

راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں کہا کہ مودی جی کھوکھلی تقریریں بند کریں اور عوام کو اصل حقائق بتائیں۔

راہول گاندھی نے وزیراعظم مودی سے تین سوالات کیے:

آپ نے پاکستان کے دہشتگردی سے متعلق بیان پر یقین کیوں کیا؟

آپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جھک کر بھارتی مفادات کو کیوں قربان کیا؟

آپ کا غصہ صرف کیمروں کے سامنے ہی کیوں آتا ہے؟

راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نے بھارت کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے غیر ضروری سفارتی دورے کر رہی ہے، جو "ویپنز آف ماس ڈسٹریکشن" بن چکے ہیں۔

واضح رہے کہ کانگریس پارٹی نے آپریشن سندور کے دوران حکومت کی حمایت کی تھی، لیکن جنگ بندی کے بعد اپوزیشن نے بی جے پی پر شدید تنقید شروع کر دی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: راہول گاندھی نے

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران