پاک بھارت تنازعات کے حل کا نیا امکان پیدا ہو گیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
پاک بھارت تنازعات کے حل کا نیا امکان پیدا ہو گیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 May, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کا کریڈٹ امریکا کی شمولیت اور معاونت کو جاتا ہے، اور اب دونوں ممالک کے دیرینہ تنازعات کے حل کا ایک نیا موقع سامنے آیا ہے۔
ترجمان نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اگرچہ ماضی میں کئی بار یہ تنازعات حل نہیں ہو سکے، لیکن اب امید کی ایک نئی کرن نظر آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ دیرپا امن کے لیے آگے بڑھیں۔
ٹیمی بروس نے اس بات پر زور دیا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں جنگ بندی جاری رکھنے کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر بھی اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی میں امریکا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخضدار میں اسکول بس پر فتنۃ الہندوستان کے حملے کا ایک اور زخمی طالبعلم چل بسا خضدار میں اسکول بس پر فتنۃ الہندوستان کے حملے کا ایک اور زخمی طالبعلم چل بسا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت مودی کے الزامات بے بنیاد اور اشتعال انگیز، خطے کے امن کو خطرہ ہے: دفتر خارجہ اس سال مزید عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم کر سکتے ہیں: امریکی وزیر خارجہ بھارتی وزیر خارجہ نے پاک بھارت کشیدگی کم کرانے میں امریکی کردار کا اعتراف کر لیا میانوالی: سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 3 دہشتگرد ہلاک، 6 فرارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاک بھارت
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔