اپیلٹ ٹربیونل نے شوگر کارٹل پر 44 ارب روپے جرمانے کا کیس دوبارہ سماعت کیلئے بھجوا دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اپیلٹ ٹربیونل نے شوگر کارٹل پر 44 ارب روپے جرمانے کا کیس دوبارہ سماعت کیلئے کمپٹیشن کمیشن کو واپس بھجوا دیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اپیلٹ ٹربیونل نے فیصلے میں کہا کہ کمپٹیشن کمیشن 90 روز میں شوگر کارٹلز کیس کا فیصلہ کرے، کمپٹیشن کمیشن کا چیئرپرسن جوڈیشل کارروائی میں کاسٹنگ ووٹ استعمال نہیں کر سکتا۔
2021 میں شوگر ملز پر کارٹل بنانے اور قیمتیں فکس کرنے پر 44 ارب روپے جرمانہ عائد ہوا تھا، دو ممبرز نے جرمانے کے حق میں جبکہ دیگر دو نے مخالفت میں فیصلہ دیا تھا۔
یوم تکبیر؛اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں چھٹی کا اعلان
ٹربیونل نے کہا کہ کمیشن کی چیئرپرسن نے کاسٹنگ ووٹ کے ذریعے دو، دو سے برابر فیصلے کو اکثریت میں بدلا تھا، کاسٹنگ دوٹ ختم ہونے سے پرانا فیصلہ دوبارہ دو دو سے برابر ہو گیا، چئیرمین کمپٹیشن کمیشن دوبارہ سماعت کر کے اپنا فیصلہ دیں۔
یاد رہے کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چیئرپرسن کے کاسٹنگ ووٹ سے فیصلہ کو عدالت میں چلینج کر رکھا تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کمپٹیشن کمیشن ٹربیونل نے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت