پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اسد قیصر—فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد لائیں گے تو پکا کام کریں گے، فی الحال ایسا نہیں۔

اسد قیصر نے کہا کہ کوئی بیک ڈور ملاقاتیں یا مذاکرات نہیں ہو رہے، اگر مذاکرات ہو رہے ہوتے تو ہمارے ساتھ ایسا رویہ رکھا جاتا تھا؟ مذاکراتی نشست کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔

اسپیکر یا وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی ہے: اسد قیصر

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بتایا ہے کہ اگرکشیدہ صورتحال میں تحریک عدم اعتماد لاتےتو ہماری حب الوطنی پر شکوک ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس کے پاس اختیار ہیں ان کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے، بانی پی ٹی آئی نے وضاحت کی ہے کہ قانون اور آئین کے اندر بات ہوگی۔

پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ اس وقت ملک کے حالات خراب ہیں، بھارت کے ساتھ کشیدگی ہے، ہم اپنی تمام چیزیں پیچھے رکھ کر پاکستان کو ترجیح دیتے ہیں۔

اسد قیصر کا یہ بھی کہنا تھا کہ جی ڈی اے، بلوچستان اور کے پی کی پارٹیاں ہمارے ساتھ گرینڈ الائنس میں ہیں، مولانا صاحب اپنی سیاست کو دیکھ رہے ہیں، مولانا صاحب جیسے مناسب سمجھیں ویسے آگے بڑھیں، ملک کی خاطر ہم تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد

پڑھیں:

وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی

اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔

رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن