لاہور ؍ سرگودھا (نوائے وقت رپورٹ+ نمائندہ خصوصی+ نامہ نگار+نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے سرگودھا کے سب سے بڑے نوازشریف فلائی اوور ہیڈ برج کا افتتاح کردیا۔ وزیر اعلیٰ نے نواز شریف فلائی اوور ہیڈ برج کا خود دورہ کیا۔ صوبائی وزیر صہیب احمد بھرتھ نے بتایا کہ نواز شریف فلائی اوور ہیڈ برج منصوبے کو آٹھ ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا۔ فلائی اوور 1.
3 کلومیٹر طویل ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر 30 ہزار سے زائد گاڑیاں مستفید ہوں گی۔ علاوہ ازیں یونیورسٹی آف سرگودھا میں لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالر شپ سکیم کی تقریب میں پہنچنے پر مریم نواز کا طلبہ نے پرجوش خیر مقدم کیا۔ طلبہ نے کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں اور خیرمقدمی نعرے لگائے۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے۔ نشستوں پر جاکر ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقات بھی کی۔ طالبہ نے
وزیراعلی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دل چاہتا ہے بڑی ہوکر سی ایم بنوں۔ جس پر وزیراعلیٰ نے کہا۔ آمین۔ مریم نواز نے طلبہ کی درخواست پر ان کے ساتھ قومی ترانہ پیش کیا۔ طلبہ کو آپریشن بنیان مرصوص میں فتح پر مبارکباد پیش کی اور طلبہ نے پاک فوج کی فتح مبین کے اعزاز کا پرجوش نعروں سے خیرمقدم کیا۔ مریم نواز کو 1929 میں تعمیر ہونے والی تعلیمی عمارت کا خوبصورت ماڈل پیش کیا گیا۔ طلبہ نے ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ سکیم کے بارے میں تاثرات بیان کئے۔ وزیراعلیٰ نے طالبہ کی خواہش پر سٹیج پر جاکر معائنہ کیا۔ مریم نوازشریف نے یونیورسٹی آف سرگودھا میں لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالر شپ کی تقریب سے خطاب میں اہم اعلانات کیے۔ اگلے سال سے ہونہار سکالرشپ کی تعداد مزید بڑھانے کا اعلان کیا۔ پنجاب کے سکولوں میں 50ہزار نئے کلاس روم بنانے اور ہر سرکاری سکول میں ٹائلٹ اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے، چھ ہزار سرکاری سکولوں میں اے آئی اور کمپیوٹر لیب فراہم
کرنے کا اعلان کیا اور تمام سرکاری سکولوں میں چیئر، ڈیسک اور دیگر فرنیچر کی فراہمی، طلبہ کی الیکٹر ک بائیکس کے لئے چارجنگ سٹیشن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعلی نے کہا سرکاری سکولوں کے طلبہ کو پرائیویٹ سکولوں کے برابر یا برتر دیکھنا چاہتی ہوں۔ میرا وزیر اعلیٰ بننا پنجاب کے تمام بیٹے اور بیٹیوں کے لئے اعزاز ہے۔ بیٹی بہادر ہوتو آگے بڑھنے سے کوئی
نہیں روک سکتا۔ نوازشریف کی بیٹی ہوں جو وعدہ کرتی ہوں پورا کرتی ہوں۔ طلبہ کو تعلیم دینے کے بعد خود روزگار کے لئے وسائل مہیا کریں گے۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی اور ماں کو تو ہر بچے کا احساس ہوتا ہے۔ طلبہ میرا شکریہ ادا نہ کریں، لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالر ان کا حق ہے۔ پنجاب کا کوئی بچہ وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ سرکاری سکولوں کے بچوں کو اب زمین پر نہیں بیٹھنا پڑے گا۔ مجھے جیل اور ڈیتھ سیل میں ڈالا گیا، مگر آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہاں کھڑی ہوں۔ سی ایم بننا آسان ہے، مگر عوام کی خدمت محنت طلب کام ہے۔ سی ایم بننے کا مقصد گاڑیوں میں بیٹھنا اور پروٹوکول انجوائے کرنا نہیں۔ پنجاب میں وسائل پہلے بھی تھے، پیسہ بھی تھا مگر اب پیسہ عوام پر لگ رہا ہے، جیبوں میں نہیں جارہا ہے۔ عوام کے لئے آٹا روٹی اور سبزی وغیرہ سستی کرنے کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ دل کرتا ہے مگر ڈیڑھ سال میں کبھی چھٹی نہیں کی۔ ویک اینڈ پر چھٹی کروں تو احساس جرم ہونے لگتا ہے۔ جس طرح لیپ ٹاپ میں وائرس کا خیال رکھا جاتا ہے، ملک کو سنبھال کر رکھنا ہے، کوئی سیا سی وائر س نہ آجائے۔ ہر تقریب میں کہتی ہوں، آپ کے والدین کی محنت کی کمائی ہے، کسی کا آلہ کار بن کر اسے ضائع نہ کریں۔ دھرتی ماں کے خلاف کبھی قدم مت اٹھانا۔ فتنہ فساد کا ایندھن بننے سے محفوظ رہنا۔ میرے بچو! ملک کا نقصان اور دھرتی ماں کو شرمندہ نہ ہونے دینا۔ فتنہ فساد والوں کے بہکاوے میں آنے والے آج جیلوں میں پڑے ہیں، ان کے والدین کا سوچ کر پریشانی ہوتی ہے۔ جو 9 مئی کو ایک سیاسی جماعت نے کیا، وہی دہشت گرد کرتے ہیں اور وہی دشمن کرتا ہے۔ شخصیات سے اختلاف ہوسکتا ہے، ملک سے نہیں۔ سیاسی جہدوجد میں ہم نے بھی اختلاف کیا، مگر ملک کے خلاف نہیں گئے۔ سیاسی تعصب سے بالا تر ہو کر سوچیں کہ شہداء کی یاد گاریں اور عسکری تنصیبات جلانا کہاں کی سیاست ہے؟۔ جس ایئر فورس پرحملے کیے گئے، اسی ایئر فورس نے دشمن کے پانچ طیارے گرا کر نام روشن کیا۔ جن وردیوں کو ڈنڈوں پر ٹانکا گیا، انہی وردی پوشوں نے ملک کی حفاظت کی۔ جو پاک سرزمین کے غدار ہیں، وہ کسی کے وفادار نہیں۔ مہذب قوم بن کر فیک نیوز کے بارے میں غور کریں۔ آزادی اظہار کے اختیار کو ذمہ داری سے استعمال کریں۔ فیک نیوز، دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا مہذب لوگوں کا وطیرہ نہیں۔ ہر خبر کی تصدیق کریں، پھر آگے پھیلائیں۔ طلبہ کے ہاتھ میں بندوق نہیں بلکہ قلم اور لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ ہیں فتنہ فساد والوں کے ساتھ نہیں۔ اگلے چار سالوں میں طلبہ کا مستقبل روشن کرنے کے لئے ہر اقدام کروں گی، یہ میرا وعدہ ہے۔ تعلیم ہی بہتر مساوات قائم کرتی ہے۔ برابری سطح پر سر اٹھا کر جیئیں اور ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے طلبہ کے ساتھ تصویریں بھی بنوائیں۔ دوسری جانب مریم نواز نے ملتان، ڈیرہ غازی خان میں شدید ہیٹ ویو کے پیش نظر متعلقہ انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم دیا۔ لاہور، فیصل آباد اور سرگودھا میں بھی ممکنہ ہیٹ ویو کے پیش نظر متعلقہ ریسکیو اداروں کو انتظامات مکمل کرنے، بچوں، بزرگوں اور بیماروں کو گھروں سے بلا ضرورت نہ نکلنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ تمام سرکاری ونجی اداروں میں اوپن ایئر سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دیا اور طلبہ کیلئے تمام کلاس روم میں کم از کم پنکھے فنکشنل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سکول انتظامیہ کوطلبہ کے ڈریس کوڈ میں نرمی برتنے کی ہدایت کی اور سکولوں اور اداروں میں فرسٹ ایڈ باکس کی موجودگی یقینی بنانے کا حکم دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ:
ہونہار سکالر شپ
سرکاری سکولوں
فلائی اوور
مریم نواز
کے ساتھ
لیپ ٹاپ
کے لئے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔