(مودی حکومت کی انتقامی کارروائیاں) بھارت میںمسلمانوں کیخلاف بلڈوزر آپریشن شروع
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
آپریشن سندور کی ہزیمت چھپانے کیلئے مودی سرکار کے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیکر ان کے گھروں پر حملے
مودی سرکارنے ہزاروں مسلمان خاندانوں کو گھر بدر اور ان کے گھر مسمار کرنا شروع کر دیے، تفصیلی رپورٹ جاری
مودی سرکار نے انتقامی کارروائیاں کرتے ہوئے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر آپریشن شروع کردیا۔تفصیلات کے مطابق آپریشن سندور کی ہزیمت چھپانے کیلئے مودی سرکار کے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیکر ان کے گھروں پر حملے جاری ہے۔حال ہی میں مودی سرکارنے ہزاروں مسلمان خاندانوں کو گھر بدر اور ان کے گھر مسمار کرنا شروع کر دیے۔ٹی آرٹی نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ اورویڈیو جاری کر دی ، مودی سرکار نے غیر قانونی بنگلہ دیشی کا بہانہ بنا کر مسلم بستیوں پر بلڈوزر چلا دیے ٹی آرٹی کا کہنا ہے کہ نسل کشی کی جانب بڑھتابھارت اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، 7 ہزار سے زائد گھروں کو زبردستی خالی کرایا گیا جن میں زیادہ ترمسلمان خاندان مقیم تھے۔حیران کن طور پر انہی علاقوں میں موجود ہندوؤں کے مکانات کو ہاتھ تک نہیں لگایاگ یا، مودی سرکار کا یہ وار واضح مذہبی تعصب کی عکاسی ہے۔احمدآبادکے چندولاتالاب پرہزاروں مسلمان کھلے آسمان تلے آگئے، مودی سرکار کے حکم پران کے مکانات مٹی کا ڈھیر بنا دیے گئے، 20 مئی کو مسمار کیے گئے گھروں میں محمد چاند نامی مسلمان کا گھر بھی شامل ہیں، جو انصاف کیلئے دوہائیاں دے رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مودی سرکار ان کے گھر
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔