مودی اب کسی حملے سے پہلے 100بار سوچے گا، جنگ کسی لمحے خطرناک رخ اختیار کر سکتی تھی
آزاد کشمیر میں شہداء کے لواحقین میں امدادی رقوم کے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بھارتی جارحیت کا جواب دے کر 71 کی شکست کا بدلہ لے لیا، ہم نے الفتح مزائلوں سے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا، مودی اب کسی حملے سے پہلے 100 بار سوچے گا۔آزاد کشمیر میں شہداء کے لواحقین میں امدادی رقوم کے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا شہداء کے لیے امدادی پیکیج حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شہداء کے ورثاء کو فی کس ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے، زخمیوں کو 10سے 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے، افواج پاکستان کے شہداء کے ورثاء کو عہدے کے حساب سے ایک کروڑ روپے سے لیکر ایک کروڑ 80 لاکھ روپیکی رقم ادا کی جائے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ شہداء کے ورثاء کو گھر سہولت کے لیے عہدے کے حساب سے ایک کروڑ 90 لاکھ سے لے کر 4 کروڑ 20 لاکھ دیے جائیں گے، شہداء کے ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی مکمل تنخواہ الاؤنسز کے ساتھ جاری رہیں گی، ان کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم مہیا کی جائے گی، شہداء کی صاحبزادی کیلیے 10 لاکھ روپے کی میرج گرانٹ دی جائے گی، افواج پاکستان کے زخمیوں کو 20 سے 50 لاکھ فی کس دیے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے جواب نے پوری پاکستانی قوم کے سر فخر سے بلند کیے ہیں، سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فرنٹ سے سب کو لیڈ کیا، افواجِ پاکستان نے روایتی جنگ میں بھارت کی برتری کا تاثر غلط ثابت کردیا، وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو اسی اتحاد و اتفاق کی طاقت سے معاشی ترقی کا سفر طے کرنا ہے۔ شہبازشریف نے کہاہے کہ چندروزقبل پاکستان اور ہندوستان میں جنگ چھڑی ، وہ جنگ کسی لمحے خطرناک رخ اختیار کر سکتی تھی، اس جنگ کے نتائج بہت زیادہ بھیانک ہو سکتے تھے، پہلگام کا واقعہ بہت افسوسناک تھا ، ہندوستان نے اس کی بنیاد پر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کی، ہم نے دنیا کو باور کروایا یہ جھوٹا،بے بنیاد الزام ہے، ہم نے کہایہ سازش کا حصہ ہے اور خطے کو تباہ کر سکتا ہے، ہم نے کہا اس واقعہ کی عالمی تحقیقات کیلئے تیار ہیں لیکن ہندوستان سییہ بات ہضم نہ ہوئی اور پاکستان پر حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حملوں میں پاکستانیوں کی شہادتیں اور زخمی ہوئے ، اس معرکہ میں پاکستان نے بھارتی نہتے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، پاکستان نے ان کے وہ جہاز گرائے جن پر ان کو ناز تھا، ہم نے الفتح مزائلوں سے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا، بیشمارممالک یکسو تھے کہ پاکستان حق پر ہے، بھارت ایک گھمنڈ اور غرورمیں تھاکہ دنیا اس کے ساتھ ہو گی، ہندوستان کے دوست نیوٹرل تھے،دنیا نے ہمارا ساتھ دیا، ہم نے دشمن کے 6 طیارے تباہ کئے ، 9مئی کی رات کوفیصلہ ہوا کہ ہم دشمن کو ایک محدود جواب دیں گے، اسی رات سپہ سالار کا فون آیا کہ دشمن نے براموس مزائلوں سے ایئر بیسز پرحملہ کر دیا، سپہ سالار نے کہا وزیراعظم ایسا زور دار تھپڑ لگایا جائے کہ دشمن قیامت تک یاد رکھے، اس کے بعد ان کا کوئی ائیربیس ہمارے مزائلوں کی زد سے باہر نہیں تھا۔شہبازشریف نے کہا کہ اسی صبح فون آیا اورکہا ہندوستان سیزفائر کیلئے تیار ہے یعنی گھٹنے ٹیکنے پر تیار ہے، مودی سرکار پاکستان پرحملہ آور ہونے سے قبل 100بار سوچے گی ، ہم نے جو سبق ہندوستان کو سکھایا،71کی شکست کابدلہ لیلیا ہے ، کچھ لوگوں کا خیال تھا کنونشل وار میں پاکستان ہندوستان سے پیچھے رہ گیا، ہمارے نیوکلیئر ہتھیاروں کی دور دور تک ضرورت نہیں پڑی ، امید ہے نیوکلیئر ہتھیاروں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: دیے جائیں گے مزائلوں سے نے کہا کہ ایک کروڑ شہداء کے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ