ہم نے الفتح مزائلوں سے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا( وزیر اعظم)
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
مودی اب کسی حملے سے پہلے 100بار سوچے گا، جنگ کسی لمحے خطرناک رخ اختیار کر سکتی تھی
آزاد کشمیر میں شہداء کے لواحقین میں امدادی رقوم کے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بھارتی جارحیت کا جواب دے کر 71 کی شکست کا بدلہ لے لیا، ہم نے الفتح مزائلوں سے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا، مودی اب کسی حملے سے پہلے 100 بار سوچے گا۔آزاد کشمیر میں شہداء کے لواحقین میں امدادی رقوم کے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا شہداء کے لیے امدادی پیکیج حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شہداء کے ورثاء کو فی کس ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے، زخمیوں کو 10سے 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے، افواج پاکستان کے شہداء کے ورثاء کو عہدے کے حساب سے ایک کروڑ روپے سے لیکر ایک کروڑ 80 لاکھ روپیکی رقم ادا کی جائے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ شہداء کے ورثاء کو گھر سہولت کے لیے عہدے کے حساب سے ایک کروڑ 90 لاکھ سے لے کر 4 کروڑ 20 لاکھ دیے جائیں گے، شہداء کے ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی مکمل تنخواہ الاؤنسز کے ساتھ جاری رہیں گی، ان کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم مہیا کی جائے گی، شہداء کی صاحبزادی کیلیے 10 لاکھ روپے کی میرج گرانٹ دی جائے گی، افواج پاکستان کے زخمیوں کو 20 سے 50 لاکھ فی کس دیے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے جواب نے پوری پاکستانی قوم کے سر فخر سے بلند کیے ہیں، سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فرنٹ سے سب کو لیڈ کیا، افواجِ پاکستان نے روایتی جنگ میں بھارت کی برتری کا تاثر غلط ثابت کردیا، وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو اسی اتحاد و اتفاق کی طاقت سے معاشی ترقی کا سفر طے کرنا ہے۔ شہبازشریف نے کہاہے کہ چندروزقبل پاکستان اور ہندوستان میں جنگ چھڑی ، وہ جنگ کسی لمحے خطرناک رخ اختیار کر سکتی تھی، اس جنگ کے نتائج بہت زیادہ بھیانک ہو سکتے تھے، پہلگام کا واقعہ بہت افسوسناک تھا ، ہندوستان نے اس کی بنیاد پر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کی، ہم نے دنیا کو باور کروایا یہ جھوٹا،بے بنیاد الزام ہے، ہم نے کہایہ سازش کا حصہ ہے اور خطے کو تباہ کر سکتا ہے، ہم نے کہا اس واقعہ کی عالمی تحقیقات کیلئے تیار ہیں لیکن ہندوستان سییہ بات ہضم نہ ہوئی اور پاکستان پر حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حملوں میں پاکستانیوں کی شہادتیں اور زخمی ہوئے ، اس معرکہ میں پاکستان نے بھارتی نہتے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، پاکستان نے ان کے وہ جہاز گرائے جن پر ان کو ناز تھا، ہم نے الفتح مزائلوں سے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا، بیشمارممالک یکسو تھے کہ پاکستان حق پر ہے، بھارت ایک گھمنڈ اور غرورمیں تھاکہ دنیا اس کے ساتھ ہو گی، ہندوستان کے دوست نیوٹرل تھے،دنیا نے ہمارا ساتھ دیا، ہم نے دشمن کے 6 طیارے تباہ کئے ، 9مئی کی رات کوفیصلہ ہوا کہ ہم دشمن کو ایک محدود جواب دیں گے، اسی رات سپہ سالار کا فون آیا کہ دشمن نے براموس مزائلوں سے ایئر بیسز پرحملہ کر دیا، سپہ سالار نے کہا وزیراعظم ایسا زور دار تھپڑ لگایا جائے کہ دشمن قیامت تک یاد رکھے، اس کے بعد ان کا کوئی ائیربیس ہمارے مزائلوں کی زد سے باہر نہیں تھا۔شہبازشریف نے کہا کہ اسی صبح فون آیا اورکہا ہندوستان سیزفائر کیلئے تیار ہے یعنی گھٹنے ٹیکنے پر تیار ہے، مودی سرکار پاکستان پرحملہ آور ہونے سے قبل 100بار سوچے گی ، ہم نے جو سبق ہندوستان کو سکھایا،71کی شکست کابدلہ لیلیا ہے ، کچھ لوگوں کا خیال تھا کنونشل وار میں پاکستان ہندوستان سے پیچھے رہ گیا، ہمارے نیوکلیئر ہتھیاروں کی دور دور تک ضرورت نہیں پڑی ، امید ہے نیوکلیئر ہتھیاروں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: دیے جائیں گے مزائلوں سے نے کہا کہ ایک کروڑ شہداء کے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔