شدید گرمی کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک کے بالائی علاقوں میں 23 اور 24 مئی کو گرد آلود طوفان اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مرطوب ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی و وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں جبکہ ایک مغربی ہوا کا سلسلہ 24 مئی کو بالائی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے۔
کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، راولپنڈی، مری اور گلیات میں گرد آلود طوفان گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
اٹک، چکوال، جہلم، میانوالی، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، گجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ، چترال، دیر، سوات، مالاکنڈ، مانسہرہ، بٹگرام، شانگلہ اور کوہستان میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
اسی طرح، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، بنوں، لکی مروت، کوہاٹ، کرک اور وزیرستان میں 23 اور 24 مئی کو بارش اور طوفانی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
ژوب، زیارت، بارکھان، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ڈی جی خان، راجن پور، ملتان، بھکر، لیہ اور ڈی آئی خان میں 24 مئی کو بارش متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علاقوں میں مئی کو
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔