اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 مئی 2025)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خضدار میںبچوں پر حملہ فتنہ الہندوستان کا مکروہ چہرہ ہے،فتنہ الہندوستان جان بوجھ کر معصوم اور نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنارہاہے، پاکستان نے بھارت کی 20 سالہ سٹیٹ اسپانسرڈ دہشتگردی کی تفصیلات دنیا کے سامنے پیش کردیں،وفاقی سیکرٹری داخلہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارت خطے کا امن خراب کررہا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد سے ہی بھارت سرگرم رہا ہے۔بھارت 20 سال سے ریاستی دہشت گردی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ مکتی باہنی اور سقوط ڈھاکا اس کی واضح مثال ہے۔ 2009ءمیں پاکستان نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد پر مبنی ڈوزیئر اقوام متحدہ کو پیش کیا تھا۔

(جاری ہے)

ڈی جی آئی ایس پی آر اور سیکرٹری داخلہ آفتاب درانی نے بھارت کی پراکسی وار کو فتنہ الہندوستان کا نام دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 2016ءمیں بھی دہشت گردی کے ثبوت یو این او کو دئیے تھے۔ بھارت دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے مختلف واقعات میں گرفتار دہشت گردوں نے بھارت کے ان واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ خضدار واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے جس میں بھارت کے حکم پر یہ واقعہ کیا گیا اور فتنہ الہندوستان بھارت کے حکم پر بچوں، مسافروں اور معصوم لوگوں کو شہید کرتا ہے۔

12 اپریل 2024 کو 12 مزدوروں کو نوشکی میں شہید کیاگیا۔ 28 اپریل 2024 کو تمپ کیچ میں 2 مزدوروں کو شہید کیاگیا۔ 9 مئی 2024 میں سات حجاموں کو دوران نیند قتل کیا گیا، 10 اکتوبر 2024 کو دکی میں کوئلہ کان میں کام کرنے والے مزدوروں کو شہید کیا گیا۔ 10 فروری 2025 کو کیچ میں 2 درزیوں کو فتنہ الہندوستان نے شہید کیا۔ 19 فروری 2025 کو بارکھان میں مزدوروں کو بس سے اتار کر شہید کیا گیا۔

11 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس پر حملے میں نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا۔ بھارت کی ہدایت پر یہ عورتوں اور بچوں پرحملے کر رہے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے خضدار واقعے میں شہید ہوئے سکول کے بچوں کی تصاویر اور کچھ ویڈیو بھی دکھائیں۔ یہ فتنہ الہندوستان کا اصل چہرہ ہے جس کی پشت پناہی بھارت کرتا ہے۔ کلبھوشن یادیو نے اپنے بیانات میں پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے۔

فتنہ الہندوستان کا تعلق کسی بلوچ قوم یا اسلام سے نہیں صرف ہندوستان سے ہے۔ بھارت ان کے ذریعے پورے بلوچستان میں دہشت گردی کرارہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنہ الہندوستان نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا۔جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا تو بھارتی میڈیا نے جشن منایا۔ بلوچ بھی پوچھتے ہیں، دہشت گردی کا بلوچستان سے کیا تعلق ہے۔ دہشت گردی کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟ یہ درندے ہندوستان کے پیسے پر بربریت کررہے ہیں۔ فتنہ الہندوستان کا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔25 اپریل کو جہلم سے دہشت گرد گرفتار ہوا۔دہشت گرد نے لاہور سے بلوچستان تک دہشت گردی کا اعتراف کیا۔ فتنہ الہندوستان جدید اسلحہ استعمال کرتے ہیں۔ جدید اور مہنگا اسلحہ انہیں کون خرید کردیتا ہے؟
.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فتنہ الہندوستان کا ڈی جی آئی ایس پی آر مزدوروں کو شہید کیا بھارت کے کیا گیا پر حملہ کو شہید

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار