UrduPoint:
2026-06-02@23:03:18 GMT

پاکستان کا Gi ٹیکس یورپ 2025 میں اپنے سفر کا پرجوش آغاز

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

پاکستان کا Gi ٹیکس یورپ 2025 میں اپنے سفر کا پرجوش آغاز

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی 2025ء) 21 مئی سے 23 مئی تک چلنے والی Gi ٹیکس نمائش کو دبئی سے یورپ اور جرمنی کے شہر برلن لایا گیا ہے۔ یہ نمائش ٹیکنالوجی اور انوینشن کا ملاپ ہے۔ اس نمائش میں 100 ممالک سے 6 ہزار ایگزیبیٹرز نے حصہ لیا ہے۔

(جاری ہے)

سفیر پاکستان ثقلین سیدہ نے Gi ٹیکس یورپ میں 20 پاکستانی ٹیک کمپنیوں کی میزبانی کرنے والے پاکستان پویلین کا باضابطہ افتتاح کیا اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے ڈیجیٹل سیکٹر کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے اور یہاں ہماری موجودگی ملک کی بڑھتی ہوئی جدید صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈائریکٹر اف مارکیٹنگ ،پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ ، شہباز حمید کا کہنا تھا کہ جرمنی میں ہمارے پاس سو سے زیادہ ڈیلیگیٹس آئے ہوئے ہیں یہ بہت بڑا ایونٹ ہے ہمارے لئے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں آئے آئ ٹی ایکسپرٹس کا کہنا تھا کہ ہم اپنی پروڈکٹس لے کر اس نمائش کاحصہ بنے ہیں جہاں دنیا بھر کے آئی ٹی ایکسپرٹس اپنی اپنی پروڈکٹس لے کر موجود ہیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم