پاکستان کا Gi ٹیکس یورپ 2025 میں اپنے سفر کا پرجوش آغاز
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی 2025ء) 21 مئی سے 23 مئی تک چلنے والی Gi ٹیکس نمائش کو دبئی سے یورپ اور جرمنی کے شہر برلن لایا گیا ہے۔ یہ نمائش ٹیکنالوجی اور انوینشن کا ملاپ ہے۔ اس نمائش میں 100 ممالک سے 6 ہزار ایگزیبیٹرز نے حصہ لیا ہے۔
(جاری ہے)
سفیر پاکستان ثقلین سیدہ نے Gi ٹیکس یورپ میں 20 پاکستانی ٹیک کمپنیوں کی میزبانی کرنے والے پاکستان پویلین کا باضابطہ افتتاح کیا اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے ڈیجیٹل سیکٹر کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے اور یہاں ہماری موجودگی ملک کی بڑھتی ہوئی جدید صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ڈائریکٹر اف مارکیٹنگ ،پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ ، شہباز حمید کا کہنا تھا کہ جرمنی میں ہمارے پاس سو سے زیادہ ڈیلیگیٹس آئے ہوئے ہیں یہ بہت بڑا ایونٹ ہے ہمارے لئے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں آئے آئ ٹی ایکسپرٹس کا کہنا تھا کہ ہم اپنی پروڈکٹس لے کر اس نمائش کاحصہ بنے ہیں جہاں دنیا بھر کے آئی ٹی ایکسپرٹس اپنی اپنی پروڈکٹس لے کر موجود ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔