پاکستان سے شکست کا غصہ بھارت مٹھائیوں پر نکالنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
بھارت نے پاکستان سے اپنی دشمنی کو ایک نئی سطح پر پہنچاتے ہوئے اب مٹھائیوں کے ناموں تک میں تبدیلی کردی ہے۔ پاکستان کے خلاف فوجی شکست کے بعد اب بھارتی حکومت کو پاکستان سے منسوب مٹھائیوں کے نام بھی ناگوار گزرنے لگے ہیں۔
حال ہی میں بھارت میں دو مشہور مٹھائیوں ’میسو پاک‘ اور ’موتی پاک‘ کے ناموں سے ’پاک‘ کا لفظ ہٹادیا گیا ہے۔ ان مٹھائیوں کے نئے نام ’میسو شری‘ اور ’موتی شری‘ رکھے گئے ہیں۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب بھارت کو پاکستان کے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے تحت زبردست فوجی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یاد رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات بھارت نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے پانچ مقامات پر حملے کیے تھے۔ پاکستانی افواج نے اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ بھارت نے اس حملے کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا، جس کے جواب میں پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ (آہنی دیوار) چلا کر دشمن کو اس کی اوقات یاد دلائی تھی۔
ماہرین کے مطابق، مٹھائیوں کے نام تبدیل کرنے کا یہ اقدام درحقیقت بھارت کی ذہنی پسماندگی اور کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ بھارت فوجی محاذ پر شکست کھا چکا ہے، اب وہ مٹھائیوں کے ناموں سے ’پاک‘ کا لفظ نکال کر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین بھی اپنی ہی حکومت کے اس اقدام پر تنقید کر رہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ جب فوجی محاذ پر کامیابی نہ مل سکے تو اب مٹھائیوں کے نام بدل کر دل بہلایا جارہا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی صارفین اس واقعے پر طنز کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’’نام بدل لینے سے حقیقت نہیں بدلتی‘‘۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے پاکستان سے اپنی دشمنی میں ایسے عجیب و غریب اقدامات کیے ہیں۔ اس سے قبل بھی بھارتی حکومت اور میڈیا پاکستان کے خلاف تعصب پر مبنی رویہ اپناتے رہے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ تو بھارت کی فوجی شکست کا ازالہ ہوگا اور نہ ہی پاکستان کی عظمت میں کوئی فرق پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان سے بھارت نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔