Express News:
2026-07-24@04:35:10 GMT

پاکستان سے شکست کا غصہ بھارت مٹھائیوں پر نکالنے لگا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

بھارت نے پاکستان سے اپنی دشمنی کو ایک نئی سطح پر پہنچاتے ہوئے اب مٹھائیوں کے ناموں تک میں تبدیلی کردی ہے۔ پاکستان کے خلاف فوجی شکست کے بعد اب بھارتی حکومت کو پاکستان سے منسوب مٹھائیوں کے نام بھی ناگوار گزرنے لگے ہیں۔

حال ہی میں بھارت میں دو مشہور مٹھائیوں ’میسو پاک‘ اور ’موتی پاک‘ کے ناموں سے ’پاک‘ کا لفظ ہٹادیا گیا ہے۔ ان مٹھائیوں کے نئے نام ’میسو شری‘ اور ’موتی شری‘ رکھے گئے ہیں۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب بھارت کو پاکستان کے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے تحت زبردست فوجی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یاد رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات بھارت نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے پانچ مقامات پر حملے کیے تھے۔ پاکستانی افواج نے اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ بھارت نے اس حملے کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا، جس کے جواب میں پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ (آہنی دیوار) چلا کر دشمن کو اس کی اوقات یاد دلائی تھی۔

ماہرین کے مطابق، مٹھائیوں کے نام تبدیل کرنے کا یہ اقدام درحقیقت بھارت کی ذہنی پسماندگی اور کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ بھارت فوجی محاذ پر شکست کھا چکا ہے، اب وہ مٹھائیوں کے ناموں سے ’پاک‘ کا لفظ نکال کر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین بھی اپنی ہی حکومت کے اس اقدام پر تنقید کر رہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ جب فوجی محاذ پر کامیابی نہ مل سکے تو اب مٹھائیوں کے نام بدل کر دل بہلایا جارہا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی صارفین اس واقعے پر طنز کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’’نام بدل لینے سے حقیقت نہیں بدلتی‘‘۔

یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے پاکستان سے اپنی دشمنی میں ایسے عجیب و غریب اقدامات کیے ہیں۔ اس سے قبل بھی بھارتی حکومت اور میڈیا پاکستان کے خلاف تعصب پر مبنی رویہ اپناتے رہے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ تو بھارت کی فوجی شکست کا ازالہ ہوگا اور نہ ہی پاکستان کی عظمت میں کوئی فرق پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان سے بھارت نے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی