چیئرمین پی ٹی آئی کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی آئی کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 23 May, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر دوران قید علیل ہونے والے پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور شاہ محمود قریشی کی ملاقات ہوئی اور شاہ محمود قریشی کی عیادت کے لیے بیرسٹر گوہر لاہور پہنچے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی اور بیرسٹر گوہر کے درمیان سیاسی امور پر تبادلہ خیال بھی ہوا اور اس موقع پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی بھی موجود تھیں۔
خیال رہے کہ شاہ محمود قریشی کو صحت کی خرابی کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیانوالی بڑی تباہی سے بچ گیا، سی ٹی ڈی کی جوابی فائرنگ سے 3خطرناک دہشتگرد ہلاک میانوالی بڑی تباہی سے بچ گیا، سی ٹی ڈی کی جوابی فائرنگ سے 3خطرناک دہشتگرد ہلاک وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل نو کر دی ہے، سیکرٹری داخلہ خرم آغا بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات کرنے کی منظوری ججز کا تبادلہ صدر مملکت کا آئینی اختیار ، کوئی کیسے دبائو ڈال سکتا ہے ؟، سپریم کورٹ رواں ہفتے 13 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ،سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 1.35فیصد کی سطح پر آگئی نجی اسکیم کے تحت 25 ہزار عازمین حج کیلئے جائیں گے، وفاقی وزیرمذہبی امور
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سیاسی امور پر تبادلہ خیال شاہ محمود قریشی بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔