خیبرپختونخوا کی تحصیل آلائی کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
ضلع بٹگرام کے عوامی نمائندوں نے وزیراعلیٰ کے تحصیل آلائی کو ضلع کا درجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آلائی کو ضلع کا درجہ دینا عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جو کہ اب پورا ہوگیا ہے، یہ فیصلہ علاقے کی پسماندگی دور کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبرپختونخوا حکومت نے تحصیل آلائی کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ہزارہ ڈویژن کے عوامی نمائندوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر مشاورت کی گئی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت اجلاس میں اگلے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے پسماندہ تحصیل آلائی کے عوام کیلئے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسے ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔
ضلع بٹگرام کے عوامی نمائندوں نے وزیراعلیٰ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آلائی کو ضلع کا درجہ دینا عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جو کہ اب پورا ہوگیا ہے، یہ فیصلہ علاقے کی پسماندگی دور کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران کے وژن کے مطابق پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی ترجیح ہے اور آئندہ بجٹ میں آلائی کو ضلع بنانے کیلئے درکار فنڈز مختص کئے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آلائی کو ضلع کا درجہ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔