فیض حمید کو کم سے کم 14 سال قید کی سزا ہوگی، فیصل واوڈا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
فیض حمید کو کم سے کم 14 سال قید کی سزا ہوگی، فیصل واوڈا کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ فیض حمید کو کم سے کم 14 سال قید کی سزا ہوگی، وہ اپنے بندوں کونہیں چھوڑ رہے تو دوسروں کو چھوڑ دیں گے؟ بادشاہوں کے دل بڑے اور جیلوں کے کمرے چھوٹے ہوتے ہیں، طنزیہ گفتگو سے بانی کی تکالیف مزید بڑھ جائیں گی، آپ یہ خیال چھوڑ دیں کہ اسٹیبلشمنٹ آپ سے بات کرے گی، اسٹیبلشمنٹ آپ سے کبھی بات نہیں کریگی۔
سینئر سیاستدان سینیٹر فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ اب تو سیاست رہی نہیں، ایک ہی آدمی ہے جو لیڈ کر رہا ہے، فیلڈ مارشل تینوں مسلح افواج کی کمان سنبھالیں گے اور ان کی وجہ سے پاکستان کو وہ تمام فوائد مل رہے ہیں جن کا ملک کئی سالوں سے منتظر تھا۔ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بغیر پہیے کے جہاز چلا رہے ہیں جس میں ہم سب اور وہ خود بھی شامل ہیں اور ملک کو فائدہ ہو رہا ہے، لہذا انہیں اس کا کریڈٹ دینا چاہیے۔
فیصل واوڈا نے فیلڈ مارشل کی قابلیت اور ایمانداری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دبا میں نہیں آتے اور ملکی مفادات کے تمام محاذوں پر آگے ہیں، چاہے وہ آئی ایم ایف کے معاملات ہوں، سیاست، دہشت گردی یا سرمایہ کاری۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عزت و مقام ملنا چاہیے کیونکہ وہ ایک ون مین شو ہیں۔
پی ٹی آئی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اب نہ پی ٹی آئی کو سوال کرنا چاہیے، نہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنی ہے اور نہ حکومت سے۔ موجودہ حکومت کی جو کمزوریاں تھیں سب چھپ گیا کیوں کہ ان کے دور میں ہی یہ کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پی ٹی آئی کے ساتھ لڑائی کا وقت نہیں بلکہ انہیں ساتھ بٹھا کر بات کرنی چاہیے۔فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر ان کے بچوں کو نقصان پہنچا تو پھر مودی کا سر مانگنا پڑے گا۔ مودی سے بھارت کی جان سپہ سالار ہی چھڑائے گا، اگر پانی روکا تو ہم بھارت پر حملہ کریں گے، ہم لاشوں کے ڈھیر لگادیں گے، امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارت کے آپیشنز لاک ہوچکے ہیں، اب اس کے نتائج آنا باقی ہیں۔
علیمہ خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بادشاہت تو ہے، بادشاہوں کے دل بڑے اور جیلوں کے کمرے چھوٹے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کبھی پی ٹی آئی سے بات نہیں کرے گی اور فیض حمید کو کم از کم 14 سال قید کی سزا ملے گی۔ عمران خان کی جلد رہائی کے امکانات نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جس جہاز میں وہ خود بیٹھے ہیں، اس میں ن لیگ بھی ہے اور پی ٹی آئی بھی اسی جہاز میں میں بیٹھنے آ رہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربنگلہ دیش میں سیاسی بحران، محمد یونس کی عہدے سے مستعفی ہونے کی دھمکی بنگلہ دیش میں سیاسی بحران، محمد یونس کی عہدے سے مستعفی ہونے کی دھمکی مہمند ڈیم کے حوالے سے ایک اور اہم سنگ میل عبور، ڈیم کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانا توہین آمیز کوشش ہے، شیخ وقاص اکرم ٹیکس چوری قطعا قابل قبول نہیں ،تدارک کیلئے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے، وزیراعظم صدر مملکت آصف علی زرداری سے آئی ایم ایف وفد کی اہم ملاقات، معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال الیکشن کمیشن کا بے ضابطگیوں کی شکایات پر نوٹس ، جمعیت اہلحدیث کے مرکزی امیر کا انتخاب خطرے میں پڑ گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کم 14 سال قید کی سزا فیض حمید کو کم فیصل واوڈا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔