Islam Times:
2026-06-03@03:50:19 GMT

فلسطینی قصبے بروقین پر صیہونیوں کا حملہ

اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT

فلسطینی قصبے بروقین پر صیہونیوں کا حملہ

فلسطینی اداروں کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی جنگ کے آغاز سے اب تک کرانہ باختری میں کم از کم 967 فلسطینی شہید، تقریباً 7000 زخمی اور 17000 سے زیادہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی آبادکاروں کے غربی سلفیت کے قصبے بروقین پر حملے کے نتیجے میں آٹھ فلسطینی جل گئے اور کئی گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ فارس نیوز کے مطابق، جمعرات کی شام دیر گئے، اسرائیلی آبادکاروں کے ایک گروہ نے شمالی کرانہ باختری کے قصبے بروقین پر دھاوا بولا اور کئی گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ فلسطینی ریڈ کراس نے اعلان کیا کہ اس حملے میں آٹھ افراد جل گئے جن کا طبی امدادی عملے نے علاج کیا۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں بروقین کے مختلف مقامات پر آگ کے شعلے دکھائے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارہ وفا کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوج نے اسی دن دو بار قصبے میں داخل ہو کر اندرونی سڑکیں بند کیں، کئی گھروں کی تلاشی لی اور تلاش کا عمل شروع کیا۔

بروقین کے میئر فائض صبرا نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حملے کے بعد قصبے کے لوگ خوف و ہراس کی حالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے آبادکاروں کی حمایت اور ان کے حملوں کو آسان بنانے کے لیے دوبارہ بروقین پر حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوج نے پچھلے ہفتے ایک آبادکار کے قتل کا الزام لگاتے ہوئے بروقین اور کفر الدیک کے قصبوں کو محاصرے میں لے لیا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج نے کئی گھروں پر قبضہ کر کے انہیں فیلڈ انکوائری مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ غزہ میں حملوں کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج اور آبادکاروں نے کرانہ باختری میں اپنی پرتشدد کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ فلسطینی اداروں کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی جنگ کے آغاز سے اب تک کرانہ باختری میں کم از کم 967 فلسطینی شہید، تقریباً 7000 زخمی اور 17000 سے زیادہ گرفتار ہو چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج نے کئی گھروں کے مطابق

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان