کانز فلم فیسٹیول میں انجلینا جولی کا شہید فلسطینی صحافی کو خراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
کانز فلم فیسٹیول 2025ء کے دوران ایک خصوصی عشائیہ تقریب میں امریکی اداکارہ انجلینا جولی نے تنازعات کا سامنا کرنے والے صحافیوں اور فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے خطاب میں انجلینا جولی نے خاص طور پر فلسطینی فوٹو جرنلسٹ فاطمہ حسونہ کا ذکر کیا، جو اسرائیلی بمباری میں شہید ہوئیں۔
فاطمہ حسونہ، جن کی عمر 23 برس تھی، غزہ میں زندگی کی مشکلات کو اجاگر کرنے والی ایک دستاویزی فلم پر کام کر رہی تھیں۔ ان کی فلم کو 15 اپریل 2025ء کو کانز فیسٹیول کے لیے منتخب کیا گیا، تاہم اگلے ہی روز ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ان کا اپارٹمنٹ تباہ ہو گیا۔ اس حملے میں فاطمہ اپنے خاندان کے 9 افراد سمیت شہید ہو گئیں۔
A post common by LPC (@landpalestine)
برطانوی تحقیقی ادارے فورینزک آرکیٹیکچر کی رپورٹ کے مطابق حملہ براہِ راست ان کے اپارٹمنٹ کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
انجلینا جولی نے اپنی تقریر میں کہا کہ دنیا بھر کے کئی فنکار اور صحافی بغیر تحفظ کے سچ بیان کر رہے ہیں اور کچھ نے اس کی قیمت اپنی جانوں سے چکائی ہے۔ انہوں نے سودان اور یوکرین سے تعلق رکھنے والے دیگر متاثرہ صحافیوں کا بھی ذکر کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: انجلینا جولی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔