کراچی میں المناک حادثہ: ٹرالر کے نیچے سویا شخص ٹائروں تلے آکر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
کراچی:
ماڑی پور ٹرک اڈے کے قریب ٹرالر کے نیچے سویا ہوا شخص ٹرالر چلنے کے باعث ٹائروں تلے آکر جاں بحق ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق ماڑی پور تھانے کے علاقے ماڑی پور ٹرک اڈا گیٹ نمبر 02 درویش کانٹے کے قریب ٹرالر کے نیچے سوتے ہوئے شخص پر ٹرالر چڑھ گیا جسے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا.
لاش قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کر دی گئی جہاں متوفی کی شناخت 35 سالہ ثناء اللہ ولد امیر خان کے نام سے کی گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق متوفی شخص ٹرالر کا ڈرائیور تھا اور کسی دوسرے ٹرالر کے نیچے سو رہا تھا کہ مذکورہ ٹرالر کے ڈرائیور نے ٹرالر چلا دیا جس کے باعث متوفی ٹرالر کے ٹائروں تلے دب کر زندگی کی بازی ہار گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ٹرالر کے نیچے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔