گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے سابق سینیٹر اسماعیل بلیدی کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 مئی2025ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر اسماعیل بلیدی نے ملاقات کی۔ہفتہ کو گورنر ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران ملک کی موجودہ سیاسی حالات، بلوچستان کی مجموعی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
(جاری ہے)
دونوں رہنماؤں نے خضدار میں پیش آنے والے سانحہ آرمی پبلک اسکول کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ انڈین پشت پناہی کے حامل دہشت گردوں کو جلد ہی نشان عبرت بنایا جائے گا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ملک کو اس وقت اتحاد، یکجہتی اور برداشت کی ضرورت ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔