نوجوان اور میڈیا بھارتی ڈس انفارمیشن مہم کے خلاف آہنی دیوار ثابت ہوئے، فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ نوجوان اور میڈیا بھارتی ڈس انفارمیشن مہم کے خلاف آہنی دیوار ثابت ہوئے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سیاسی قیادت اور مسلح افواج کے اعلیٰ حکام کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ، اسحاق ڈار، ایاز صادق، وفاقی وزرا، وزرائے اعلیٰ اور گورنرز نے بھی شرکت کی۔
عشائیے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان نے بھی شرکت کی، شرکا نے مسلح افواج کی قربانیوں اور جرأت کو سراہا۔
آرمی چیف عاصم منیر نے معرکہ حق کے دوران سیاسی قیادت کے عزم کو خراج تحسین پیش کیا اور آپریشن بنیان مرصوص میں مسلح افواج کی کو آر ڈی نیشن اور کامیابی کو سراہا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ تقریب میں شرکا کا عزم قومی یکجہتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان اور میڈیا نے ڈس انفارمیشن کے خلاف موثر کردار ادا کیا، پاکستانی سائنسدان، انجینئرز اور سفارتکاروں کا کردار بھی لائق تحسین ہے۔
مزیدپڑھیں:ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند ہونے سے متعلق اہم خبر آگئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :