Islam Times:
2026-07-24@13:30:25 GMT

تکفیریوں کے کارڈ سے امریکہ کا کھیل

اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT

تکفیریوں کے کارڈ سے امریکہ کا کھیل

اسلام ٹائمز: موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ براہ راست داعش کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ یہ گروہ بدستور خطے میں اس کے مفادات کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن امریکہ بالواسطہ طور پر داعش کو جولانی پر دباو ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ نے شام پر پابندیاں ختم کرنے کو غیر ملکی دہشت گرد عناصر کو ملک سے نکال باہر کرنے سے مشروط کیا ہے۔ یوں اس نے جولانی رژیم کو بہت سخت دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جولانی اقتدار میں باقی رہنے کے لیے ہمیشہ اس کا محتاج رہے۔ امریکہ دوسری طرف شام میں داعش کے خطرے کو بڑا کر کے دکھا رہا ہے جبکہ اس کے خاتمے کے لیے کوئی موثر اقدام بھی انجام نہیں دیتا۔ اس کا مقصد شام میں ایک مضبوط مرکزی حکومت تشکیل پانے کو روکنا ہے۔ داعش کی حمایت کا آخری مقصد اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنا ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل 20 مئی کے دن خبردار کیا کہ شام میں محض چند ہفتے بعد ممکن ہے بھرپور پیمانے پر خانہ جنگی کا آغاز ہو جائے۔ مارکو روبیو نے سینیٹ کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے مزید کہا: "ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ درپیش چیلنجز کے باعث شام کی نگران حکومت نہ چند ماہ بلکہ محض چند ہفتے ہی چل سکے گی اور اس کے خاتمے پر اس ملک میں شدید خانہ جنگی اور ٹوٹ پھوٹ شروع ہو سکتی ہے۔" دوسری طرف دہشت گرد گروہ داعش کے بچے کھچے عناصر اور ھیئت تحریر الشام کے پرانے اتحادیوں نے شام میں ابو محمد الجولانی کے برسراقتدار آنے کے بعد اس ملک کے وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت سے ان کے اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
 
تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے غیر ملکی دہشت گرد عناصر کو ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں موجودہ نگران حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانا شروع کر دیا ہے۔ ابو محمد الجولانی ھیئت تحریر الشام کا سربراہ بھی ہے۔ دوسری طرف مغربی حکمران دمشق کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ غیر ملکی دہشت گرد عناصر کو اپنے ملک میں پناہ دینے سے گریز کریں۔ ایسے میں شام میں موجود غیر ملکی دہشت گرد عناصر کا مسئلہ ایک شدید بحران کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور نگران حکومت اسے حل کرنے سے عاجز ہو چکی ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ مندرجہ بالا حالات کے پیش نظر آئندہ چند ہفتوں میں شام میں مختلف دہشت گرد گروہوں اور تکفیری دھڑوں کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو جائیں گی جن کے باعث یہ ملک ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے خطرے سے بھی روبرو ہو سکتا ہے۔
 
داعش کی جانب سے جولانی کو غدار قرار دینا
ھیئت تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں موجودہ نگران حکومت اس وقت تشکیل پائی جب سابق صدر بشار اسد کو ملک سے نکال باہر کر دیا گیا۔ صدر بشار اسد حکومت کے خاتمے میں کچھ علاقائی اور مغربی حکومتوں نے خفیہ کردار ادا کیا تھا جبکہ غیر ملکی دہشت گرد عناصر نے اس میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت شام کی نگران حکومت شدید تضادات کا شکار ہو چکی ہے۔ ابو محمد الجولانی جو کسی زمانے میں خود کو ایک "مجاہد" کے طور پر پیش کرتا تھا آج مغرب نواز رجحانات کی جانب یوٹرن لے کر مغربی طاقتوں کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس یوٹرن کے بعد کابینہ میں بے پردہ خواتین کی شمولیت، شراب کی خرید و فروش کی اجازت اور حتی ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات جیسے اقدامات انجام پائے ہیں۔
 
یہ تمام اقدامات حتی ھیئت تحریر الشام کے شدت پسند عناصر کی جانب سے اصل اہداف سے غداری قرار پا رہے ہیں۔ اسی طرح ابو محمد الجولانی نے غیر ملکی وار لارڈز کو مختلف حکومتی عہدے عطا کیے ہیں جس کے باعث شام کے عوام بھی اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ شام کے مقامی عناصر ابو محمد الجولانی پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ طاقت کے حصول کے لیے غیر ملکی عناصر کا سہارا لے رہا ہے۔ جولانی کے ان اقدامات نے نہ صرف نگران حکومت کو ٹھیس پہنچائی ہے بلکہ داعش جیسے شدت پسند گروہوں کو اکسا کر خانہ جنگی کا ماحول پیدا ہونے کا باعث بنے ہیں۔ جولانی نے اپنے سیکورٹی سیٹ اپ میں غیر ملکی مسلح عناصر کو باقی رکھا ہے جن میں چینی اویغور قابل ذکر ہیں جو اس کے شخصی محافظوں میں شامل ہیں۔ اس طرح عدم استحکام کو فروغ ملا ہے۔
 
اندرونی تنازعات میں داعش کا کردار
شام میں خطرناک ترین گروہ کے ناطے داعش اندرونی تنازعات میں اہم کردار ادا کرنے میں مصروف ہے۔ اس گروہ نے ھیئت تحریر الشام سے علیحدگی اختیار کر لینے کے بعد اپنے میگزین میں جولانی پر غداری اور مغربی طاقتوں کا ساتھ دینے کا الزام عائد کیا ہے اور اسے "کافر" اور "ٹرمپ کا بندہ" قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ داعش نے بڑے پیمانے پر نئے افراد بھرتی کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے اس کے خطرناک عزائم کا اظہار ہوتا ہے۔ داعش غیر ملکی دہشت گرد عناصر جن کی تعداد 1500 سے 6000 کے درمیان ہے، کو جولانی کے خلاف اکسا رہی ہے اور یوں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کا مقدمہ فراہم کر رہی ہے۔ یہ گروہ جولانی کی مغرب نواز پالیسیوں کے خلاف غیر ملکی دہشت گرد عناصر کی ناراضگی سے بھرپور فائدہ اٹھا کر انہیں دمشق کے خلاف بغاوت پر اکسانے میں مصروف ہے۔
 
امریکہ اور داعش میں گٹھ جوڑ
موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ براہ راست داعش کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ یہ گروہ بدستور خطے میں اس کے مفادات کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن امریکہ بالواسطہ طور پر داعش کو جولانی پر دباو ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ نے شام پر پابندیاں ختم کرنے کو غیر ملکی دہشت گرد عناصر کو ملک سے نکال باہر کرنے سے مشروط کیا ہے۔ یوں اس نے جولانی رژیم کو بہت سخت دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جولانی اقتدار میں باقی رہنے کے لیے ہمیشہ اس کا محتاج رہے۔ امریکہ دوسری طرف شام میں داعش کے خطرے کو بڑا کر کے دکھا رہا ہے جبکہ اس کے خاتمے کے لیے کوئی موثر اقدام بھی انجام نہیں دیتا۔ اس کا مقصد شام میں ایک مضبوط مرکزی حکومت تشکیل پانے کو روکنا ہے۔ داعش کی حمایت کا آخری مقصد اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غیر ملکی دہشت گرد عناصر کو ابو محمد الجولانی ھیئت تحریر الشام داعش کی حمایت نگران حکومت خانہ جنگی جولانی پر کے خاتمے رہے ہیں کے خلاف ہوتا ہے شام کے ہے اور کے لیے کیا ہے رہا ہے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران