data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی بائیٹ ڈانس نے امریکا میں ممکنہ پابندیوں کے پیش نظر ایک نئی ایپ تیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو امریکی صارفین کے لیے ٹک ٹاک کی جگہ لے گی۔

دی انفارمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ نئی ایپ خصوصی طور پر امریکی مارکیٹ کے لیے بنائی جا رہی ہے، کمپنی یہ اقدام اس وقت کر رہی ہے جب امریکا میں ٹک ٹاک پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اگر وہ اپنی امریکی سرگرمیاں فروخت نہیں کرتا تو اس پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بائیٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کی فروخت کے لیے رواں برس تیسری بار مہلت دی ہے، جو 17 ستمبر 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اس نئی ایپ کے ذریعے ٹک ٹاک کی فروخت کے امریکی قانون پر عملدرآمد کو ممکن بنایا جائے گا، تاہم کسی بھی نئے انتظامی معاہدے کے لیے بائیٹ ڈانس کو چینی حکومت کی منظوری درکار ہوگی۔

ذرائع کے مطابق نئی ایپ کا ابتدائی کوڈ نام M2 رکھا گیا ہے، جبکہ موجودہ ایپ کو M کہا جا رہا ہے، منصوبہ یہ ہے کہ ستمبر میں اس ایپ کو لانچ کر کے بتدریج موجودہ ٹک ٹاک ایپ کو ختم کیا جائے اور صارفین کو نئی ایپ پر منتقل کیا جائے۔

مزید یہ کہ مارچ 2026 تک امریکا میں اوریجنل ٹک ٹاک ایپ مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔ اس دوران ایک سرمایہ کار گروپ بھی امریکی مارکیٹ میں ٹک ٹاک کے حقوق خریدنے کے قریب ہے۔ اطلاعات ہیں کہ نئے سیٹ اپ میں بائیٹ ڈانس کو معمولی حصے داری دی جا سکتی ہے۔

کیا آپ چاہیں گے میں اسی خبر کو زیادہ تجزیاتی اور اداریہ نما اسلوب میں لکھوں جس میں بائیٹ ڈانس کے اس اقدام کے ممکنہ سیاسی، تجارتی اور صارفین پر اثرات کا ذکر بھی ہو؟ یا پھر خبری بلیٹن اسٹائل میں مختصر اور تیز لہجے کے ساتھ؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بائیٹ ڈانس ٹک ٹاک کی نئی ایپ کے لیے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ