پاکستان پر قرض اور ادائیگیوں کا بوجھ 89 ہزار 834 ارب تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرض اور ادائیگیوں کا 89 ہزار 834 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت 1 لاکھ 16 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہے، اپریل 2025 تک قرض اور ادائیگیوں کا بوجھ بڑھ کر 89 ہزار 834 ارب روپے تک پہنچ گیا، قرضوں اور ادائیگیوں کا حجم جی ڈی پی کے 78 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
گزشتہ مالی سال میں اسی عرصے کے دوران قرض اور ادائیگیوں کا بوجھ 81 ہزار 450 ارب روپے تھا محض ایک سال کے دوران 8 ہزار 400 ارب روپے تک کا اضافہ ہوا جبکہ مئی اور جون میں مزید قرض بھی لیا جائے گا۔
اسلام آباد میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف فوری آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا
وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق آبادی کا ہر فرد تقریباً 3 لاکھ سے زائد کا مقروض ہے، جبکہ مزدور کی سالانہ آمدن 4 لاکھ 44 ہزار روپے ہے۔
ملکی قرضوں میں مقامی قرض اور ادائیگیوں کا بوجھ تقریباً 51 ہزار 518 ارب روپے ہے، مقامی قرضوں کی بات کی جائے تو سرکاری دستاویز کے مطابق 43 ہزار 595 ارب روپے لانگ ٹرم اور 7 ہزار 860 ارب روپے شارٹ ٹرم قرض ہے، لانگ ٹرم قرضوں میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز 33622 ارب روپے اور اجارہ سکوک بانڈز کا حجم 5997 ارب روپے تک ہے جبکہ شارٹ ٹرم میں مارکیٹ ٹریژری بل کا حجم 7 ہزار 765 ارب روپے ہے۔
کرپشن کے الزامات: گنڈاپور نے اپوزیشن لیڈر کے پی اسمبلی کو 1ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوادیا
غیرملکی قرضوں کا حجم تقریباً 33 ہزار 197 ارب روپے ہے، غیرملکی قرضوں میں سب سے زیادہ کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت 40 ارب 46 کروڑ ڈالر قرض ہے، باہمی معاہدوں کے تحت 17 ارب 86 کروڑ ڈالر، یورو اور سکوک بانڈز کا حجم 6 ارب 80 کروڑ ڈالر، کمرشل لونز 5 ارب 85 کروڑ ڈالر تک ہیں۔
آئی ایم ایف کے 7 ارب 73 کروڑ ڈالر اور پیرس کلب کے 7 ارب 21 کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں، پاکستان آئی ایم ایف کا 8 ارب 27 کروڑ ڈالر کا مقروض ہے۔
آئندہ سال کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ذرائع بتاتے ہیں کہ قرضوں کو اتارنے کیلئے نئے مالی سال میں تقریباً 7 ہزار ارب روپے سے زائد قرض لینے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے بعد حکومتی قرض اور ادائیگیوں کا بوجھ ریکارڈ 95 ہزار ارب روپے پر پہنچنے کا امکان ہے، رواں مالی سال کیلئے بیرونی ذرائع سے قرض حاصل کرنے کا تخمینہ 19 ارب 39 کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا مگر جولائی سے اپریل تک صرف 5 ارب 50 کروڑ 75 لاکھ ڈالر موصول ہو سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف آج سے مختلف ممالک کے دورے پر روانہ ہوں گے
آئندہ مالی سال کیلئے ایکسٹرنل فنانسنگ کا تخمینہ 19 ارب 31 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، ماہرین کی رائے ہے کہ ہر سال فنانسنگ کا تخمینہ زیادہ اور ان فلو کم رہنا پلاننگ کی نااہلی کے باعث ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: قرض اور ادائیگیوں کا بوجھ ارب روپے تک تک پہنچ گیا کروڑ ڈالر کا تخمینہ مالی سال روپے ہے کا حجم
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔