خواتین کی مالیاتی شمولیت بڑھانے کیلئے 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسٹیٹ بینک کے درمیان پاکستان میں خواتین کی مالیاتی شمولیت بڑھانے کے لئے 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے وی فنانس کوڈ پروگرام کے لئے معاہدہ طے پا گیا، اے ڈی پی اور اسٹیٹ بینک کے درمیان وی فنانس کوڈ پر عمل درآمد کے منعقدہ تقریب میں 20 پاکستانی بینکوں نے دستخط کئے، معاہدے کے تحت بینکس پاکستان میں خواتین کی مالیاتی شمولیت بڑھانے کے لئے اپنا کردار ادا کرینگے۔پیر کو مقامی ہوٹل میںاسٹیٹ بینک کی جانب سے ویمن آنٹرپرینیور فنانس کوڈ پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا تھا کہ ملک میں افراط زر 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے تاہم پائیدارمعیشتکے حصول کے لئے میکرو اکنامک استحکام ضروری ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک کے سخت فیصلوں کی وجہ سے معیشت بحال ہوئی ہے، ماضی کی غلطیاں دہرانی نہیں چاہئیں۔ اس موقع پرپٹی گورنر سلیم اللہ، ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندے سینئر ڈائریکٹر فنانس سے ڈی کرسٹین انگسٹرون نے بھی خطاب کیا ،جب کہ مقامی بینکوں کے صدور بھی تقریب میں موجود تھے۔تقریب سے خطاب کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان میں وی فنانس کوڈ کو ممکن بنانا خوش آئند ہے، ماضی کے مسائل سے بچنے کے لئے ضروری ہے ہم غلطیاں نہ دہرائیں اور پائیدار معیشت کی جانب اپنا سفر جاری رکھیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ سخت مانیٹری پالیسی کے سبب پاکستان نے معاشی تنزلی پر قابو پالیا ہے، زرمبادلہ مستحکم ہو کر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے جبکہ ترسیلات زر اور برآمدات کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے ۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ وی فنانس کوڈ کو ممکن بنانے پر ایشیائی ترقیاتی بینک کی ٹیم کا شکرگزار ہوں۔ پائیدار معیشت کے حصول کے لیے میکرو اکنامک استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایشیائی ترقیاتی بینک گورنر اسٹیٹ بینک فنانس کوڈ بینک کے نے کہا کے لئے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔