کراچی؛ جائیداد کے تنازع پر چھوٹے بھائی کے ہاتھوں بڑا بھائی قتل
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
کراچی:
بلدیہ ٹاؤن یوسف گوٹھ میں جائیداد کے نتازع پر چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا، پولیس نے سگے بھائی کے قتل میں ملوث ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سعید آباد تھانے کے علاقے بلدیہ ٹاؤن یوسف گوٹھ گھر میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کی لاش قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کی گئی جہاں متوفی کی شناخت 40 سالہ خلیل الرحمٰن ولد عبدالرحمٰن کے نام سے کی گئی۔
فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کر لیا۔
سعید آباد پولیس کے مطابق مقتول خلیل الرحمٰن کو اس کے حقیقی چھوٹے بھائی مجیب الرحمٰن نے جائیداد کے تنازع پر فائرنگ کرکے قتل کیا اور موقع پر سے فرار ہوگیا۔ پولیس نے ملزم کی فوری تلاش شروع کر دی تھی، ملزم فرار ہونے کے بعد لیاری میں اپنی رہائش گاہ پہنچا جہاں بغدادی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سگے بھائی کو قتل کرنے والے ملزم مجیب الرحمٰن کو گرفتار کرکے آلہ قتل برآمد کر لیا۔
سعید آباد پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے اپنے بھائی کو اے کے 47 رائفل سے فائرنگ کرکے قتل کیا، پولیس نے واردات میں استعمال ہونی والی رائفل برآمد کرلی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مقتول کو جائیداد میں حصہ مل گیا تھا اور اس نے بلدیہ یوسف گوٹھ میں اپنا گھر خریدا تھا لیکن چند روز قبل مقتول اپنے دو بھائیوں فضل اور مجیب کے گھر پہنچا اور دوبارہ جائیداد میں حصہ مانگا۔ بھائیوں کا کہنا تھا کہ تمھیں جائیداد میں حصہ مل گیا ہے اب یہاں نہ آو، مقتول اپنے بھائیوں کو سنگین تنائج کی دھمکیاں دینے کے بعد وہاں سے چلا گیا جس پر اتوار کی صبح منجلے بھائی مجیب نے بڑے بھائی کو گھر جا کر اسے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ملزم مجیب الرحمٰن کا مجرمانہ ریکارڈ پہلے سے موجود ہے اور وہ اس سے قبل بھی بغدادی، کھارادر اور دیگر تھانوں میں درج مقدمات میں متعدد بار گرفتار ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فائرنگ کرکے قتل بھائی کو پولیس نے الرحم ن کے قتل
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔