اقوام متحدہ کے ادارہ محنت (ILO) اور پولینڈ کے قومی تحقیقی ادارے نے مشترکہ جائزے میں خبردار کیا ہے کہ تخلیقی مصنوعی ذہانت (جنریٹیو اے آئی) خواتین اور دفتری ملازمین کی نوکریوں میں بڑی تبدیلی لائے گی، جس سے ان کے روزگار کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، بلند آمدنی والے ممالک میں خواتین کی 9.6 فیصد ملازمتیں خودکار نظاموں سے متاثر ہو سکتی ہیں، جو مردوں کے مقابلے میں قریباً 3 گنا زیادہ ہے۔ عالمی سطح پر خواتین کی 4.

7 فیصد اور مردوں کی 2.4 فیصد نوکریاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: تخلیقی مصنوعی ذہانت کے پیٹنٹ میں چین نے دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا

’اے آئی‘ خاص طور پر ڈیٹا انٹری، ڈاکیومنٹ فارمیٹنگ اور شیڈولنگ جیسے دفتری کاموں کو خودکار بنا رہی ہے، جس سے ملازمین کی ذمہ داریاں محدود، اجرت کا اضافہ رک سکتا ہے اور کام کا معیار گرنے کا اندیشہ ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ملازمین کو ڈیجیٹل مہارت نہ دی گئیں اور ’اے آئی‘کے استعمال پر مشمولہ پالیسی نہ بنائی گئی تو خاص طور پر خواتین ملازمین کی نوکریاں غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستانیوں کو ’چیٹ جی پی ٹی‘ کے رشتہ کی تلاش

رپورٹ میں حکومتوں، آجروں اور مزدور تنظیموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر فیصلہ کن اقدامات کریں، کارکنوں کو نئی مہارتیں سکھائیں، سماجی مکالمہ کو فروغ دیں اور یقینی بنائیں کہ ’اے آئی‘ ترقی کی رکاوٹ نہیں بلکہ مددگار بنے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ILO اے آئی‘ انقلاب تخلیقی مصنوعی ذہانت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے آئی انقلاب تخلیقی مصنوعی ذہانت ملازمین کی اے آئی

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ