شام میں قتل و غارت اور عدم استحکام
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
اسلام ٹائمز: سکیورٹی کے مسائل کے علاوہ شام کی معیشت کو اسوقت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے، اسکے 90 فیصد سے زیادہ باشندے خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ملک کی تعمیر نو پر لاگت کا تخمینہ 250 سے 400 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شام میں جاری تشدد، خاص طور پر مسلح گروہوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں امن و استحکام کے قیام کیلئے ایک جامع اور دیرپا حل کی ضرورت ہے۔ شام میں امن و استحکام کے قیام کیلئے بین الاقوامی کوششوں کو زیادہ سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیئے، تاکہ مزید انسانی نقصانات کو روکا جا سکے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی
شامی حکومت کے زوال اور اس کے فوجی اور سکیورٹی ڈھانچے کے مکمل خاتمے کے سات ماہ بعد سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تشدد، جھڑپوں اور سکیورٹی کے عدم استحکام کے نتیجے میں 8000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ملک میں بدامنی اور تشدد کے جاری رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جو اب بھی مسلح گروپوں کے کنٹرول میں ہیں۔ اس قسم کے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصانات ملک میں انسانی بحران کو ہوا دے رہے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی منگل کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق شام بھر میں 8 دسمبر 2024ء سے 7 جولائی 2025ء تک کم از کم 8,067 افراد بڑے پیمانے پر تشدد، قتل و غارت، مسلح تصادم اور سمری پھانسیوں کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
آبزرویٹری کے مطابق مرنے والوں میں 6,150 عام شہری تھے، جن میں 330 بچے اور 451 خواتین شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح طور پر شام میں جاری افراتفری کے حوالے سے کمزور سماجی گروہوں کی انتہائی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ نئی فوجی دستوں کے زیر کنٹرول علاقے بھی فرقہ وارانہ تشدد، انتقامی قتل اور عدم تحفظ سے دوچار ہیں، جو ایک جمہوری، جامع اور پرامن شام کے قیام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور الجولانی کے اقتدار میں آنے کے بعد، اسرائیلی قابض افواج نے قنیطرہ اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے درمیان سرحدی پٹی کے ساتھ کئی کلومیٹر پیش قدمی کی اور مومونٹ کے کچھ حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔
اسرائیلی فوج نے قنیطرہ اور درعا صوبے کے مضافات میں بھی اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت، جس نے 1967ء سے شام کی گولان کی پہاڑیوں کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا تھا، بشار الاسد حکومت کے خاتمے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک سکیورٹی بفر زون بنانے اور جنوبی شام سے لاحق خطرات کو بے اثر کرنے کے بہانے قنیطیرہ کے صوبوں میں پیش قدمی کی ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حالیہ دورہ واشنگٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا ایک مقصد پہلے مرحلے میں شام میں نئے مقبوضہ علاقوں کی خود مختاری سے متعلق سکیورٹی معاہدے کو آگے بڑھانا اور پھر اس ملک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔
دوسری جانب جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں توسیع اور گولان میں بفر زون پر اسرائیل کے کنٹرول کے باوجود جولانی 1974ء میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری پر زور دے رہا ہے۔ بہرحال سکیورٹی کے مسائل کے علاوہ شام کی معیشت کو اس وقت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے، اس کے 90 فیصد سے زیادہ باشندے خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ملک کی تعمیر نو پر لاگت کا تخمینہ 250 سے 400 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شام میں جاری تشدد، خاص طور پر مسلح گروہوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک جامع اور دیرپا حل کی ضرورت ہے۔ شام میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو زیادہ سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیئے، تاکہ مزید انسانی نقصانات کو روکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں امن و استحکام کے قیام
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔