Islam Times:
2026-07-24@10:30:57 GMT

شام میں قتل و غارت اور عدم استحکام

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

شام میں قتل و غارت اور عدم استحکام

اسلام ٹائمز: سکیورٹی کے مسائل کے علاوہ شام کی معیشت کو اسوقت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے، اسکے 90 فیصد سے زیادہ باشندے خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ملک کی تعمیر نو پر لاگت کا تخمینہ 250 سے 400 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شام میں جاری تشدد، خاص طور پر مسلح گروہوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں امن و استحکام کے قیام کیلئے ایک جامع اور دیرپا حل کی ضرورت ہے۔ شام میں امن و استحکام کے قیام کیلئے بین الاقوامی کوششوں کو زیادہ سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیئے، تاکہ مزید انسانی نقصانات کو روکا جا سکے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

شامی حکومت کے زوال اور اس کے فوجی اور سکیورٹی ڈھانچے کے مکمل خاتمے کے سات ماہ بعد سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تشدد، جھڑپوں اور سکیورٹی کے عدم استحکام کے نتیجے میں 8000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ملک میں بدامنی اور تشدد کے جاری رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جو اب بھی مسلح گروپوں کے کنٹرول میں ہیں۔ اس قسم کے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصانات ملک میں انسانی بحران کو ہوا دے رہے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی منگل کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق شام بھر میں 8 دسمبر 2024ء سے 7 جولائی 2025ء تک کم از کم 8,067 افراد بڑے پیمانے پر تشدد، قتل و غارت، مسلح تصادم اور سمری پھانسیوں کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

آبزرویٹری کے مطابق مرنے والوں میں 6,150 عام شہری تھے، جن میں 330 بچے اور 451 خواتین شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح طور پر شام میں جاری افراتفری کے حوالے سے کمزور سماجی گروہوں کی انتہائی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ نئی فوجی دستوں کے زیر کنٹرول علاقے بھی فرقہ وارانہ تشدد، انتقامی قتل اور عدم تحفظ سے دوچار ہیں، جو ایک جمہوری، جامع اور پرامن شام کے قیام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور الجولانی کے اقتدار میں آنے کے بعد، اسرائیلی قابض افواج نے قنیطرہ اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے درمیان سرحدی پٹی کے ساتھ کئی کلومیٹر پیش قدمی کی اور مومونٹ کے کچھ حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اسرائیلی فوج نے قنیطرہ اور درعا صوبے کے مضافات میں بھی اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت، جس نے 1967ء سے شام کی گولان کی پہاڑیوں کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا تھا، بشار الاسد حکومت کے خاتمے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک سکیورٹی بفر زون بنانے اور جنوبی شام سے لاحق خطرات کو بے اثر کرنے کے بہانے قنیطیرہ کے صوبوں میں پیش قدمی کی ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حالیہ دورہ واشنگٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا ایک مقصد پہلے مرحلے میں شام میں نئے مقبوضہ علاقوں کی خود مختاری سے متعلق سکیورٹی معاہدے کو آگے بڑھانا اور پھر اس ملک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔

دوسری جانب جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں توسیع اور گولان میں بفر زون پر اسرائیل کے کنٹرول کے باوجود جولانی 1974ء میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری پر زور دے رہا ہے۔ بہرحال سکیورٹی کے مسائل کے علاوہ شام کی معیشت کو اس وقت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے، اس کے 90 فیصد سے زیادہ باشندے خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ملک کی تعمیر نو پر لاگت کا تخمینہ 250 سے 400 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شام میں جاری تشدد، خاص طور پر مسلح گروہوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک جامع اور دیرپا حل کی ضرورت ہے۔ شام میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو زیادہ سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیئے، تاکہ مزید انسانی نقصانات کو روکا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں امن و استحکام کے قیام

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار