اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کے بعد ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر کی وفات کے بعد ان کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ شوبز دنیا میں پائی جانے والی منافقت پر تنقید کرتی نظر آتی ہیں۔
اداکارہ کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ شوبز انڈسٹری کی شکایت کرتی نظر آئیں۔ میزبان نے ان سے سوال کیا کہ انہیں شوبز میں کیا چیز سب سے زیادہ نا پسند ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’شوبز انڈسٹری میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو منافق ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: اداکارہ حمیرا اصغر کی کئی روز پرانی لاش فلیٹ سے برآمد، پڑوسی کیا کہتے ہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ انہوں نے فیشن اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کچھ مخلص لوگ بھی دیکھے جو ذہنی طور پر مضبوط اور جذبات پر قابو رکھنا جانتے ہیں لیکن انڈسٹری کا ایک بڑا حصہ دکھاوے اور سطحی رویوں پر مشتمل ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس انڈسٹری میں کچھ لوگ خوشامدی ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو میں کبھی نہیں سیکھ سکی۔ میں نے خود کو بدلنے کی کوشش کی، کبھی کبھی میں نے بھی ماسک پہنا، لیکن یہ جھوٹی خوشامد سیکھنے کا دل نہیں چاہا اور نہ مجھے سیکھنی ہے۔
واضح رہے کہ حمیرا اصغر کا تعلق لاہور سے تھا انہوں نے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے کراچی کا رخ کیا تھا۔ 8 جولائی کو ان کی لاش کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی، اور مختلف اطلاعات کے مطابق وہ تقریباً ایک ماہ پہلے انتقال کر چکی تھیں۔ ان کی موت کی وجہ تاحال غیر واضح ہے اور پولیس نے اس بارے میں باضابطہ تفتیش شروع کر دی ہے۔
حکام کے مطابق فلیٹ کے مالک نے کرایہ نہ ملنے پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے کیس دائر کیا تھا، اور گزشتہ روز عدالتی بیلف کے ہمراہ جب فلیٹ خالی کروانے کے لیے ٹیم پہنچی تو لاش برآمد ہوئی۔ اداکارہ کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق اسپتال لائی جانے والی لاش مسخ شدہ حالت میں ہے، جس کے مختلف نمونے اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ موت کی حقیقی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے سامنے آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سینیئر اداکارہ عائشہ خان کی ایک ہفتہ پرانی نعش برآمد، شوبز انڈسٹری کا اظہار افسوس
حمیرا اصغر کی موت کی خبر سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں صدمے کا باعث بنی، صارفین نے افسوس کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ وہ اتنی تنہا کیسے ہو گئیں۔
2013 میں ماڈلنگ سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والی حمیرا نے پاکستان کے معروف ڈیزائنرز جیسے علی ذیشان، دیپک پروانی اور ثنا سفیناز کے ساتھ کام کیا۔ انہوں نے فلموں ’جلیبی‘ اور ’لو ویکسین‘ میں بھی اداکاری کی، لیکن انہیں اصل شہرت 2022 کے ریئلٹی شو ’تماشہ‘ میں شرکت کے ذریعے ملی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حمیرا اصغر حمیرا اصغر پوسٹ مارٹم حمیرا اصغر موت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حمیرا اصغر پوسٹ مارٹم حمیرا اصغر موت حمیرا اصغر کی انہوں نے موت کی کے بعد کی موت
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔